صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 21 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 21

صحیح البخاری جلد ۲۱ ۶۱ - كتاب المناقب مذکورہ بالا دونوں حوالوں سے ظاہر ہے کہ حارث کی اولاد بنو خزاعہ کو قریش سے تو ہمدردی کے کیا تعلقات ہو سکتے تھے۔یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاہدہ میں شامل ہوئے اور اس کی محرک اول سابقہ قدیم خاندانی رقابت تھی۔مکہ پر اپنے تین صدی تسلط اور قریش کے جد امجد قصی بن کلاب کے ہاتھوں سے اپنی جلاوطنی کی سلفی وہ نہیں بھول سکتے تھے۔باب ۳: نَزَلَ الْقُرْآنُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ قرآن قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ٣٥٠٦ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ :۳۵۰۶ عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَن کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عُثْمَانَ دَعَا ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حضرت انس سے روایت کی کہ حضرت عثمان نے حضرت زید بن ثابت، حضرت عبد اللہ بن زبیر، حضرت سعید وَسَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بن عاص اور حضرت عبد الرحمن بن حارث بن بْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَنَسَحُوْهَا فِي ہشام کو بلوایا اور پھر انہوں نے سورتوں کو الْمَصَاحِفِ وَقَالَ عُثْمَانُ لِلرَّهْطِ مصحفوں میں نقل کیا اور حضرت عثمان نے ان الْقُرَشِيِّيْنَ الثَّلَاثَةِ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ تینوں (عبد اللہ سعید اور عبد الرحمن قریشی وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي شَيْءٍ مِّنَ الْقُرْآنِ لوگوں سے کہا: جب تم اور زید بن ثابت قرآن کے کسی لفظ کے متعلق اختلاف کرو تو تم اس کو الرحم فَاكْتُبُوْهُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ فَإِنَّمَا نَزَلَ قریش کی زبان میں لکھنا کیونکہ وہ انہی کی زبان بِلِسَانِهِمْ فَفَعَلُوْا ذَلِكَ۔اطرافه : ۴۹۸۴، ۴۹۸۷ میں نازل ہوا ہے۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔تشريح نَزَلَ الْقُرْآنُ بِلِسَانِ قریش: روایت زیر باب کا مقصد صرف اس قدر بتاتا ہے کہ قریش دوسری قوموں سے بلکہ قبائل عرب میں سے بھی اس امر میں ممتاز ہیں کہ ان کی زبان میں قرآن مجید جیسی فصیح و بلیغ اور جامع حقائق و اصولِ شریعت کتاب نازل ہوئی اور مصحف کی کتابت کے وقت انہی کے لب ولہجہ اور انہی کے محاورات کو ترجیح دی جاتی تھی۔اس امر کی تفصیل آئندہ آئے گی۔دیکھئے کتاب فضائل القرآن، باب ۲، ۳۔