صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 297
صحیح البخاری جلدی ۲۹۷ ۶۳- كتاب مناقب الأنصار رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَی ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے امْرَأَةٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رِوایت کی۔ کہتی تھیں: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ هَلَكَتْ قَبْلَ أَنْ کی کسی بیوی پر اتنی غیرت نہیں کیا کرتی تھی، جتنی يَتَزَوَّجَنِي لِمَا كُنْتُ أَسْمَعُهُ يَذْكُرُهَا کہ خدیجہ پر غیرت کرتی تھی۔ وہ مجھ سے شادی کرنے سے پہلے انتقال کر چکی تھیں۔ یہ غیرت اس وجہ سے آتی تھی کہ میں آنحضرت صلی اللہ وَأَمَرَهُ اللَّهُ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ مِّنْ قَصَبٍ وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ علیہ وسلم سے سنا کرتی تھی کہ آپ ہمیشہ ان کی فَيُهْدِي فِي خَلَائِلِهَا مِنْهَا مَا تعریف کرتے اور اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا تھا يَسَعُهُنَّ۔ کہ خدیجہ کو موتیوں کے ایک محل کی بشارت دیں اور جب بھی آپ کوئی بکری ذبح کرتے تو ضرور ہی خدیجہ کی سہیلیوں کو اس کے گوشت میں سے اتنا ہدیہ بھیجتے کہ ان کے لئے کافی ہوتا۔ اطرافه ۳۸۱۷، ۳۸۱۸، ۵۲۲۹ : ۲۰۰۴ : ۷۴۸۴ ۳۸۱۷ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۳۸۱۷ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حمید حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ بن عبد الرحمن نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عروہ سے ، ہشام نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَی کہتی تھیں: میں کسی عورت پر اتنا رشک نہیں کرتی امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ مِنْ تھی جتنا کہ خدیجہ پر ۔ اس لئے کہ رسول اللہ كَفْرَةِ ذِكْرِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بہت ذکر کیا کرتے تھے۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا قَالَتْ وَتَزَوَّجَنِي کہتی تھیں: آپ نے ان کی وفات کے تین سال بَعْدَهَا بِثَلَاثِ سِنِينَ وَأَمَرَهُ رَبُّهُ عَزَّ بعد مجھ سے شادی کی اور آپ کے رب عز و جل وَجَلَّ أَوْ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنْ نے فرمایا تھا، یا کہا: جبرائیل علیہ السلام نے آپ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ۔ سے یہ کہا کہ خدیجہ کو جنت میں ایک ایسے گھر اطرافه ۳۸۱۶، ۳۸۱۸، ۵۲۲۹، ۶۰۰۴، ۷۴۸۴ کی بشارت دے دیں جو موتیوں کا ہوگا۔