صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 293
صحیح البخاری جلد ۲۹۳ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار ۳۸۱۳ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۳۸۱۳ : عبد الله بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ عَن ابْن عَوْنٍ از ہر سمان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے (عبد اللہ ) عَنْ مُّحَمَّدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ بن عون سے، ابن عون نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے قیس بن عباد سے روایت کی کہ كُنْتُ جَالِسًا فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ انہوں نے کہا: میں مدینہ کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا فَدَخَلَ رَجُلٌ عَلَى وَجْهِهِ أَثَرُ الْخُشُوعِ کہ ایک شخص اندر آیا۔اس کے چہرے پر فروتنی شخص فَقَالُوْا هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ کے آثار نمایاں تھے۔لوگوں نے کہا: یہ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ تَجَوَّزَ فِيْهِمَا ثُمَّ جنتوں میں سے ہے۔اس نے دو رکعت نماز خَرَجَ وَتَبِعْتُهُ فَقُلْتُ إِنَّكَ حِيْنَ پڑھی۔انہیں مختصر کیا۔پھر وہ نکل گیا اور میں اس دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ قَالُوا هَذَا رَجُلٌ مِنْ کے پیچھے ہو لیا۔میں نے کہا: جب آپ مسجد میں أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ وَاللَّهِ مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ آئے تھے لوگ کہنے لگے: یہ شخص اہل جنت میں سے ہے۔اس نے کہا: اللہ کی قسم! کسی کو بھی أَنْ يَقُوْلَ مَا لَا يَعْلَمُ وَسَأُحَدِثُكَ لِمَ نہیں چاہیے کہ وہ ایسی بات کہے جسے وہ جانتا نہیں ذَاكَ رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ اور میں تمہیں بتلائے دیتا ہوں کہ ایسا کیوں کہتے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا ہیں۔میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ كَأَنِّي فِي رَوْضَةٍ ذَكَرَ ایک خواب دیکھا تھا جو میں نے آپ سے بیان مِنْ سَعَتِهَا وَحُضْرَتِهَا وَسَطَهَا عَمُوْدٌ کیا۔میں نے دیکھا جیسے کہ میں ایک باغ میں ہوں مِنْ حَدِيدٍ أَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ وَأَعْلَاهُ اور انہوں نے اس باغ کی کشادگی اور سرسبزی کا أَعْلَاهُ عُرَوَةٌ فَقِيلَ ذکر کیا۔اس کے درمیان لوہے کا ایک ستون في ہے۔پایا اس کا زمین میں ہے اور چوٹی اس کی لِي ارْقَهُ قُلْتُ لَا أَسْتَطِيعُ فَأَتَانِي آسمان میں۔اس کے اوپر ایک کنڈا ہے۔مجھے کہا مِنْصَفْ فَرَفَعَ ثِيَابِي مِنْ خَلْفِي گیا: چڑھ جاؤ۔میں نے کہا: میں نہیں چڑھ سکتا۔فَرَقِيْتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلَاهَا اتنے میں ایک خادم میرے پاس آیا۔اس نے فَأَخَذْتُ فِي الْعُرْوَةِ فَقِيلَ لَهُ (۱) میرے کپڑوں کو میرے پیچھے سے اٹھایا۔میں السَّمَاءِ فِي (1) فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ الفاظ فیل ہی ہیں۔(فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۱۶۳) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔