صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 292 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 292

صحیح البخاری جلد ۲۹۲ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار السَّيْفُ مِنْ يَدِ(۱) أَبِي طَلْحَةَ إِمَّا ڈالتیں اور (اس دن) حضرت ابو طلحہ کے ہاتھوں سے تلوار دو یا تین دفعہ گر گئی تھی۔مَرَّتَيْنِ وَإِمَّا ثَلَاثًا۔اطرافه ۲۸۸۰، ۲۹۰۲، ۴۰۶۴ تشريح۔مَنَاقِبُ أَيْ طَلْحَةَ رَضِيَ الله عنه: حضرت ابوطلحہ زید بن سہل بن الاسود بین حرام الانصاري الخزرجي النجاری) حضرت ام سلیم (والدہ حضرت انس) کے خاوند تھے۔(فتح الباری جزء صفحہ ۱۶۲) روایت زیر باب سے ظاہر ہے کہ وہ ایک حوصلہ مند ، دلیر اور بہادر مجاہد تھے جو شدید خطرہ کے وقت نہایت نازک گھڑی میں آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنے جسم و جان کے ساتھ بطور ڈھال بنے رہے اور دشمن جو بار بار آپ پر وار کر رہا تھا اس کا ڈٹ کر کامیابی کے ساتھ مقابلہ بھی کرتے رہے۔بہت بڑے تیر انداز تھے۔ان کا نشانہ کم ہی چو کتا تھا۔جس کا احساس دشمن کو بھی تھا اور اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے نہیں دیا۔بَاب ۱۹: مَنَاقِبُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے اوصاف ۳۸۱۲ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۳۸۱۲ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، قَالَ سَمِعْتُ مَالِكًا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي کہا: میں نے مالک سے سنا۔انہوں نے عمر بن النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْن عُبَيْدِ اللهِ عَنْ عبید اللہ کے غلام ابو النضر سے ، انہوں نے عامر عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ بن سعد بن ابی وقاص سے ، عامر اپنے باپ سے أَبِيْهِ قَالَ مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ روایت کرتے تھے۔انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی شخص کے متعلق جو اس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ لِأَحَدٍ يَمْشِي زمین پر چلتا ہو یہ کہتے نہیں سنا کہ وہ جنتی ہے عَلَى الْأَرْضِ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا سوائے حضرت عبد اللہ بن سلام کے۔حضرت لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ وَفِيْهِ نَزَلَتْ سعد نے کہا: انہی کے متعلق یہ آیت اتری: هَذِهِ الْآيَةُ: وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِى بنی اسرائیل میں سے ایک شاہد نے اپنے جیسے کے إِسْرَاءِيلَ عَلَى مِثْلِهِ الأحقاف (۱۱) متعلق شہادت دی۔عبد اللہ بن یوسف نے کہا: الْآيَةَ قَالَ لَا أَدْرِي قَالَ مَالِكَ الْآيَةَ میں نہیں جانتا، مالک نے یہ آیت اپنی طرف سے أَوْ فِي الْحَدِيْثِ۔پڑھی یا حدیث میں ہے۔1) عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ ”یدانی“ ہے۔(عمدۃ القاری جز ء۶ ۱ صفحہ ۲۷۳)