صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 294 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 294

صحیح البخاری جلدے ۲۹۴ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار اسْتَمْسِكُ فَاسْتَيْقَظْتُ وَإِنَّهَا لَفِي چڑھ گیا۔یہاں تک کہ میں اس ستون کی چوٹی پر يَدِي فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ پہنچ گیا اور میں نے اس کنڈے کو پکڑ لیا۔مجھ سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تِلْكَ الرَّوْضَةُ کہا گیا کہ اسے تھامے رکھو۔میں جاگ پڑا جبکہ "الْإِسْلَامُ"۔وَذَلِكَ الْعَمُودُ عَمُودُ وہ میرے ہاتھ میں ہی تھا۔میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ خواب بیان کیا۔آپ نے فرمایا: وہ 66 الْإِسْلَامِ وَتِلْكَ الْعُرْوَةُ عُرْوَةُ الْوُثْقَى باغ ”اسلام“ ہے اور وہ ستون اسلام کا ستون“ فَأَنْتَ عَلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى تَمُوْتَ ہے اور وہ کنڈا ”عُرْوَةُ الْوُثْقَى“ ہے۔تم مرنے وَذَلِكَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَام تک اسلام پر ہی رہو گے اور وہ شخص حضرت وَقَالَ لِي خَلِيْفَةُ حَدَّثَنَا مُعَاةٌ حَدَّثَنَا عبد الله بن سلام تھے۔اور (امام بخاری کہتے ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُّحَمَّدٍ حَدَّثَنَا قَيْسُ تھے : ( خلیفہ بن خیاط) نے مجھ سے کہا: معاذ بْنُ عُبَادٍ عَنِ ابْنِ سَلَامٍ قَالَ وَصِيْفٌ (عنبری) نے ہم سے بیان کیا کہ ابن عون نے ہمیں بتایا۔محمد بن سیرین) سے روایت ہے کہ بَدَّلَ مِنْصَفٌ۔اطرافه: ۷۰۱۰، ۷۰۱۴- قیس بن عباد نے ابن سلام سے روایت کی۔انہوں نے منصف کی جگہ وصیف کا لفظ بیان کیا جس کے معنے جو ان خادم کے ہیں۔٣٨١٤: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۳۸۱۴ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعِيْدِ بْن أَبِي بُرْدَةَ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سعید بن ابی بردہ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيْتُ سے سعید نے اپنے باپ (ابو بردہ عامر بن ابی موسیٰ) عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں مدینہ میں آیا اور حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے فَقَالَ أَلَا تَجِيْءُ فَأُطْعِمَكَ سَوِيْقًا ملا۔انہوں نے کہا کہ کیا تم نہیں آؤ گے؟ میں وَتَمْرًا وَتَدْخُلَ فِي بَيْتٍ ثُمَّ قَالَ تمہیں ستو اور کھجور میں کھلاؤں گا اور تم ایسے گھر إِنَّكَ فِي أَرْضِ الرِّبَا بِهَا فَاشٍ إِذَا میں داخل ہو گے (کہ جس میں آنحضرت صلی اللہ كَانَ لَكَ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ فَأَهْدَى عليه وسلم بھی تشریف لائے تھے۔پھر کہنے لگے: