صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 291
صحیح البخاری جلد ۲۹۱ - كتاب مناقب الأنصار عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ ہم سے بیان کیا کہ عبد العزیز بن صہیب) نے أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ ہمیں بتایا۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی مُ أُحُدٍ انْهَزَمَ النَّاسُ عَنِ النَّبِيِّ ہے۔انہوں نے کہا: جب احد کی جنگ ہوئی لوگ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ شکست کھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہٹنے لگے اور حضرت ابوطلحہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَوِّبٌ بِهِ عَلَيْهِ بِحَجَفَةٍ لَهُ سامنے اپنی ایک چمڑے کی ڈھال سے آپ پر آڑ کئے رہے اور حضرت ابو طلحہ بڑے تیر انداز اور وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَجُلًا رَامِيًا شَدِيْدَ کمان کو زور سے کھینچنے والے تھے۔انہوں نے الْقِدِ يَكْسِرُ يَوْمَئِذٍ قَوْسَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا اس دن دو یا تین کما نہیں توڑ دیں اور جو کوئی آدمی وَكَانَ الرَّجُلُ يَمُرُّ مَعَهُ الْجَعْبَةُ مِنَ تیروں کی ترکش لئے ادھر سے گزرتا آپ اسے النَّبْل فَيَقُوْلُ الْقُرْهَا لِأَبِي طَلْحَةَ فرماتے: ابو طلحہ کے لئے تیر بکھیر جاؤ۔نبی صلی اللہ فَأَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم جو لوگوں کو دیکھنے کے لئے سر اٹھا کر يَنْظُرُ إِلَى الْقَوْمِ فَيَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ يَا جھانکتے تو حضرت ابوطلحہ کہتے: اے نبی اللہ ! نَبِيَّ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَا تُشْرِفْ میرے ماں باپ آپ کے قربان۔جھانکیں نہ، يُصِيبُكَ سَهُمْ مَنْ سِهَامِ الْقَوْمِ مبادا لوگوں کا تیر کہیں آپ کو لگ جائے۔میرا نَحْرِي دُوْنَ نَحْرِكَ وَلَقَدْ رَأَيْتُ سینہ آپ کے سینے کے آڑے ہے۔اور میں نے حضرت عائشہ بنت ابی بکر اور حضرت ام سلیم کو عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ وَأُمَّ سُلَيْمٍ جو اپنی پنڈلیوں سے کپڑا چڑھائے ہوئے تھیں اور وَإِنَّهُمَا لَمُشَمْرَتَانِ أَرَى خَدَمَ ان کے پاؤں کے زیور دکھائی دیتے تھے دیکھا کہ سُوْقِهِمَا تُنْقِزَانِ الْقِرَبَ عَلَى وہ پانی کی مشکیں اپنی پیٹھوں پر اٹھائے انہیں مُتُؤْنِهِمَا تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ ثُمَّ اچھالتے جلدی جلدی آتیں اور لوگوں کے منہ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَانِهَا ثُمَّ تَجِيْنَانِ میں انہیں انڈیلتی جاتی تھیں۔پھر وہ واپس جاتیں فَتُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ وَلَقَدْ وَقَعَ اور ان کو بھرتیں اور پھر آکر لوگوں کے منہ میں