صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 289
صحیح البخاری جلد ۲۸۹ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار ۳۸۰۹ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۳۸۰۹ محمد بن بشار نے مجھے بتایا۔فندر نے ہم حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ سے بیان کیا، کہا: میں نے شعبہ سے سنا۔(انہوں سَمِعْتُ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْن مَالِكِ نے کہا: میں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت اللهُ عَنْهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی صلی اللہ رَضِيَ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ علیہ وسلم نے آئی سے فرمایا: اللہ نے مجھے حکم دیا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَي إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي ہے کہ میں تمہیں سورۃ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا أَقْرَأَ عَلَيْكَ : لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ پڑھ کر سناؤں۔حضرت اُبی نے پوچھا: کیا میرا أهل الكتب (البينة : ٢) قَالَ وَسَمَّاني نام لیا تھا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔حضرت أبي " یہ قَالَ نَعَمْ فَبَكَى۔اطرافه: ۴۹۵۹، ۴۹۶۰، ۴۹۶۱ سن کر رو پڑے۔شریح : مَنَاقِبُ أَيَ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ الله عَنْه: حضرت أبي بن كعب بن قيس بن عبيد بن زید بن معاویہ بن عمرو بن مالک بن النجار الانصاري الخزرجی) ان کی کنیت ابو المنذر اور ابو الطفیل تھی۔نسب نامہ سے ظاہر ہے کہ یہ بنو نجار میں سے تھے اور سابقین اولین سے۔مشہور بیعت عقبہ اور غزوہ بدر میں شریک ہوئے اور ان کے بعد باقی غزوات میں بھی۔۳۰ھ میں فوت ہوئے۔باب کے تحت دو روایتیں ہیں جن سے ظاہر ہے کہ ان کا شمار شراء اربعہ اور فقہاء اہل مدینہ میں ہوتا ہے۔حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ یہ سن کر کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص طور پر ارشاد فرمایا کہ ابی بن کعب کو آیت محولہ پڑھ کر سنا دی جائے، اس سے ان کی تعظیم کا پتہ چلتا ہے۔آیت لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكَيْنَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيْنَةُ ) (البيئة: ۲) کا ترجمہ یہ ہے: کفار اہل کتاب اور مشرکین (اپنے کفر سے) باز رہنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس انبینہ نہ آجاتی (کھلی کھلی واضح دلیل یانشان جو حق و باطل میں تمیز کر دے۔) رَسُولُ مِنَ اللهِ يَتْلُوا صحفًا مُطَهَّرَةً كُ فِيهَا كُتُبُ قَيْمَةٌ ) ( البيئة: ۳ تا ۴) یعنی اللہ کی طرف) سے آنے والا ایک رسول جو (انہیں ایسے ) پاکیزہ صحیفے پڑھ کر سناتا جن میں قائم رہنے والے احکام ہوں۔البيتة سے مراد وہ رسول ہے جو کامل کتاب لانے والا ہے۔جس میں نہ ملنے والی دائمی صداقتیں ہیں اور جن سے صحف سابقہ کا ناقص ہونا کھلے طور پر ثابت ہو جاتا ہے۔جیسا کہ کتاب الانبیاء میں اس سے متعلق واضح حوالے گزر چکے ہیں۔اس سورۃ میں خیر البریہ کا ذکر ہے اور ابدی رضوان الہی کی بشارت دی گئی ہے۔جس کی وجہ سے حضرت ابی بن کعب کے آنسو خوشی میں بہہ پڑے۔علامہ قرطبی نے بھی یہی وجہ بیان کی ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ (۱۶) اس سورۃ کی عظمت اپنے موقع و محل پر بیان ہو گی۔انشاء اللہ تعالی۔