صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 287
صحیح البخاری جلدے ۲۸۷ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار حاصل کیا۔رضی اللہ عنہ۔یہ فقہاء صحابہ میں سے تھے اور اسی وجہ سے یمن بھیجے گئے تھے تا انہیں علم دین سکھائیں۔ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ان کے بارے میں روایت نقل کی ہے جس کے یہ الفاظ ہیں : اَرْحَمُ أُمَّتِى أَبُو بَكْرٍ۔۔۔وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَل ان کی شرائط صحت کے مطابق یہ قابل اعتماد روایت ہے اور ان کی نسبت حضرت عمر کا ایک قول بھی مروی ہے۔جس کے یہ الفاظ ہیں : من أَرَادَ الْفِقْهَ فَلْيَأْتِ مُعَاذَا ) ( فتح الباری جزءے صفحہ ۱۵۹) اس سے امام بخاری کی مذکورہ بالا روایت ہی کی تائید ہوتی ہے جو مرفوع ہے۔حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابو موسیٰ اشعری کی علاقہ یمن میں تقرری کے تعلق میں کتاب المغازی باب ۶۰ دیکھئے۔بَاب ١٥ : مَنْقَبَةُ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے اوصاف وَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ اور حضرت عائشہ کہتی تھیں: سعد اس سے پہلے بھی نیک آدمی تھا۔رَجُلًا صَالِحًا۔:۳۸۰۷ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا :۳۸۰۷ اسحاق (بن منصور ) نے ہمیں بتایا کہ عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عبد الصمد نے ہم سے بیان کیا۔شعبہ نے ہمیں قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكِ بتایا۔قتادہ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَبُو أُسَيْدٍ قَالَ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رَضِيَ سنا کہ حضرت ابو اسید نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار کے گھرانوں میں خَيْرُ دُوْرِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ ثُمَّ سے بہترین (گھرانہ) بنو نجار ہیں۔پھر بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بنو عبد الاشہل، پھر بنو حارث بن خزرج، پھر بن الْخَزْرَج ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ وَفِي بنو ساعدہ اور انصار کے تمام گھرانوں میں ہی كُل دُوْرِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ فَقَالَ سَعْدُ بھلائی ہے۔یہ سن کر حضرت سعد بن عبادہ بولے بْنُ عُبَادَةَ وَكَانَ ذَا قِدَمٍ فِي الْإِسْلَامِ اور وہ اسلام میں اعلیٰ پایہ کے تھے کہ میں سمجھتا ۱) سنن الترمذى، كتاب المناقب، باب مناقب معاذ بن جبل سنن ابن ماجه، المقدمة، باب فضائل خباب ۲) مصنف ابن ابى شيبة، كتاب السير ، باب ما قالوا فيمن يبدأ به في الأعطية، جزء ۶ صفحه۴۵۷