صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 286 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 286

صحیح البخاری جلد ۲۸۶ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے جو تاریخ بخاری ) میں مروی ہے اور حاکم نے مستدرک (۲) میں صحیح سند سے نقل کی ہے : قَالَتْ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يُعْتَدُّ عَلَيْهِمْ فَضْلًا كُلُّهُمْ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ سَعْدُ بْنُ مُعَادٍ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَعَبَّادُ بنُ بِشْرٍ۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۱۵۸) حضرت عائشہ نے فرمایا: انصار میں سے تین شخص تھے جن سے بڑھ کر کوئی افضل نہیں سمجھا جاتا تھا اور یہ تینوں عبد الاشہل کی ذریت میں سے تھے۔یعنی سعد بن معاذ، اُسید بن حضیر اور عباد بن بشر۔رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِيْنَ۔بَاب ١٤: مَنَاقِبُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے اوصاف ٣٨٠٦: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۳۸۰۶ محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ غندر نے حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو ہم سے بیان کیا۔شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَّسْرُوْقٍ عَنْ عمرو بن مرہ) سے، عمرو نے ابراہیم (شخصی) سے، اللهُ عَنْهُمَا ابراہیم نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔(انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم يَقُوْلُ اسْتَقْرِثُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِّن سے سنا۔آپ فرماتے تھے: چار شخصوں سے ابْنِ مَسْعُودٍ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَأُبَيِّ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ۔اطرافه ۳۷۵۸، ۳۷۶۰، ۳۸۰۸، ۴۹۹۹ قرآن سیکھو۔ابن مسعود اور ابو حذیفہ کے غلام سالم اور ابی بن کعب اور معاذ بن جبل سے۔تشریح : مَنَاقِبُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: حضرت معاذ بن جبل مشہور قاری تھے جیسا کہ روایت زیر باب سے ظاہر ہے۔قبیلہ خزرج سے تھے اور ان کی کنیت عبد الرحمن تھی۔ان کا نسب نامہ یہ ہے: معاذ بن جبل بن عمرو بن اوس من بنی اسد بن شاردہ بن تزید بن جشم بن الخزرج۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں یمن کے امیر مقرر کئے گئے۔جب وہاں سے واپس ہوئے تو غزوہ شام میں بطور مجاہد شامل ہوئے اور ۱۸ ھ میں جب عمواس میں طاعون کی وبا پھیلی تو اسی دوران اس وبا سے بیمار ہوئے اور فوت ہو گئے۔طاعون کی بیماری سے فوت ہونے والا مسلمان شہید کہلاتا ہے اور یہ تو مجاہد بھی تھے۔شہادت کا دو ہر اثواب (١) التاريخ الكبير ، باب الف اسید بن حضیر ، جزء دوم صفحہ ۴۷ ( المستدرك على الصحيحين، كتاب معرفة الصحابة، ذکر مناقب عباد بن بشر ، جزء سوم صفحه ۲۵۴