صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 284 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 284

صحیح البخاری جلد ۲۸۴ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار الْمَسْجِدِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آئے۔جب مسجد کے قریب پہنچے تو نبی صلی اللہ وَسَلَّمَ قُوْمُوا إِلَى خَيْرَكُمْ أَوْ عليه وسلم نے فرمایا: تم اپنے میں سے بہتر کے استقبال کو اٹھو، یا فرمایا: اپنے سردار کے استقبال سَيّدِكُمْ فَقَالَ يَا سَعْدُ إِنَّ هَؤُلَاءِ کو اٹھو۔پھر آپ نے فرمایا: سعد! یہ لوگ آپ نَزَلُوْا عَلَى حُكْمِكَ قَالَ فَإِنِّي أَحْكُمُ کے فیصلہ پر اترے ہیں۔انہوں نے کہا: پھر میں فِيْهِمْ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ان کے متعلق فیصلہ کرتا ہوں۔یہ کہ ان میں جو ذَرَارِتُهُمْ قَالَ حَكَمْتَ بِحُكْمِ اللهِ أَوْ لڑنے والے تھے انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کے اہل و عیال قید کر لئے جائیں۔آپ نے فرمایا: تم نے الہی منشاء کے مطابق فیصلہ کیا ہے، یا فرمایا: بِحُكْمِ الْمَلِكِ۔اطرافه ۳۰۴۳، ۴۱۲۱، ۶۲۶۲ تم نے شاہانہ فیصلہ کیا ہے۔نشریح۔مَنَاقِبُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: یہ قبیلہ اوس کے سردار تھے۔جس طرح حضرت سعد بن عبادہ قبیلہ خزرج کے (رضی اللہ عنہا)۔حضرت سعد بن معاذ کا نسب نامہ یہ ہے: سعد بن معاذ بن نعمان بن امرء القيس بن عبد الاشھل۔ایک شاعر کے مندرجہ ذیل قول میں سعدان سے یہی دونوں سعد مراد ہیں: فَإِن يُسْلِمِ السَّعْدَانِ يُصْبِحُ مُحَمَّدٌ بِمَكَّةَ لَا يَخْشَى خِلَافَ الْمُخَالِفِ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۱۵۶) اگر دونوں سعد اسلام قبول کر لیں تو مکہ میں محمد صلی اللہ کی کسی مخالف کی مخالفت کا خوف نہیں کریں گے باب کی پہلی روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جس ریشمی بھلے کے ہدیہ کا ذکر ہے وہ اکیدر دومہ نے آپ کو بھیجا تھا۔جیسا کہ حضرت انس " کی روایت میں صراحت ہے۔(دیکھئے کتاب الهبة باب ۲۸ روایت نمبر ۲۶۱۶) زہری کی روایت میں یہی موصولاً منقول ہے۔(کتاب اللباس باب (۲۶) فَإِنَّ الْبَرَاء يَقُولُ اهْتَزَّ السَّرِيرُ : باب کی دوسری روایت سے ظاہر ہے کہ حضرت براء بن عازب کی روایت مخدوش بتائی گئی ہے جو خزرجی تھے اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ اوس میں سے تھے۔دونوں قبائل میں قدیم رقابت تھی اور ایک دوسرے کی فضیلت کے منکر۔یہ روایت درست نہیں۔اول اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قدیم جذبات حسد و کینہ کو نکال کر انہیں اخوت و محبت میں تبدیل کر دیا تھا اور دوسرے اس وجہ سے کہ حضرت براء بن عازب خود اوسی تھے۔یہ فاش غلطی ہے۔ان کا نسب نامہ یہ ہے: عازب بن حارث بن عدی بن مجد عد بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس اور ان کا نسب حضرت سعد بن معاذ سے حارث