صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 18
صحیح البخاری جلدے IA ۶۱ - كتاب المناقب سے بڑا جانور ہے اور باقی جانوروں کو نگل جاتی ہے۔چونکہ یہ طاقتور لوگ تھے اس لئے قریش کہلائے۔دوسری وجہ یہ کہ قریش کے معنوں میں جتھہ بندی اور اتحاد کا مفہوم پایا جاتا ہے۔چنانچہ کہتے ہیں: تَقَرَّشَ الْقَوْمُ تَجَمَّعُوا۔قوم جمع ہو گئی۔یہ سب لوگ بیت اللہ کی حفاظت کے لئے مکہ میں جمع ہو گئے تھے ، اس لئے قریش کا نام پایا۔اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ تجارتی کاروبار کی وجہ سے ان کا نام قریش تھا۔کہتے ہیں: تقرّشَ الْمَالَ - جَمَعَهُ۔اس نے مال جمع کیا۔چونکہ یہ تجارت سے کافی مال جمع کر لیتے تھے، اس لئے ان کا نام قریش ہوا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ قریش جنگی لوگ تھے اور فن حرب میں خوب ماہر۔اسی وجہ سے مذکورہ بالا قبائل قریش کہلائے۔چنانچہ لغت میں تقارش کے معنی ہیں خوب نیزہ زنی کی۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۶۵۴،۶۵۳) (لسان العرب - قرش) باب ۲ کے تحت مناقب قریش سے متعلق چھ روایتیں ہیں۔روایت نمبر ۳۵۰۵ میں حضرت عبد اللہ بن زبیر کا واقعہ نقل کیا گیا ہے۔اس کا تعلق آپ کے ایام خلافت سے ہے۔یہ حضرت عائشہ کے بھانجے تھے۔چاہتے تھے کہ انہیں صدقات میں اسراف سے رو کیں۔جس پر وہ ان سے ناراض ہو گئیں۔امام بخاری نے یہ واقعہ قریش کے اوصاف میں شمار کیا ہے کہ وہ سخاوت نفس سے متصف تھے۔باب ۲ کی پہلی روایت جو حضرت معاویہؓ سے مروی ہے۔اس کا مضمون وہی ہے جو باب ا کی روایت نمبر ۳۴۹۶ میں گذر چکا ہے۔اس میں یہ الفاظ ہیں : وَالنَّاسُ مَعَادِنُ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوْا تَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ أَشَدَّ النَّاسِ كَرَاهِيَةً لِهَذَا الشَّأْنِ حَتَّى يَقَعَ فِيْهِ۔اور باب ۲ کی روایت نمبر ۳۵۰۰ میں ہے: فَإِيَّاكُمْ وَالأَمَانِي الَّتِي تَضِلُّ أَهْلَهَا۔یعنی ان خواہشوں ( اور آرزوؤں ) سے اپنے تئیں بچاؤ جو خواہش کرنے والوں کو گمراہ کرتی ہیں کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ یہ امر قریش میں رہے گا۔۔۔مَا أَقَامُوا الدِّين جب تک وہ دین پر راستی سے قائم رہے۔حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص کے قول کی تائید حضرت ابو ہریرہ کی روایت نمبر۳۵۱۷ سے بھی ہوتی ہے جو باب سے میں مروی ہے۔قحطانی سے مراد یمنی شخص ہے جس کی نسبت خیال کیا جاتا ہے کہ وہ امام مہدی ہے جو حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام کے نزول سے پہلے آئے گا۔مگر یہ روایت بلحاظ سند موقوف ہے۔اس بارہ میں امام ابن حجر نے لکھا ہے کہ حضرت معاویہ کا قول مقید ہے الفاظ ما أَقَامُوا الذِينَ ہے۔یعنی قحطان میں خلافت منتقل ہونے کا تعلق اس وقت سے ہے جب قریش دین کے بارہ میں لا پر وا ہو جائیں گے۔(فتح الباری جزء ۱ شرح باب ۲ صفحه ۶۵۴، شرح باب ۷ صفحہ ۶۶۷) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمودہ پورا ہو گیا ہے۔جب بغداد میں ان کی خلافت برائے نام تھی، دینی روح مر چکی تھی۔اس تعلق میں تفصیل کتاب الفتن میں آئے گی۔باب ۲ کی روایت نمبر ۳۵۰۱ میں یہ ذکر ہے مَا بَقِي مِنْهُمُ اثْنَانِ کہ حکومت قریش میں رہے گی جب تک قریش میں سے دو آدمی بھی باقی ہوں۔یہ روایت مذکورۃ الصدر شرط سے مقید ہے یعنی بشر طیکہ دینداری ان میں قائم رہے۔قبائل قحطان کا تعلق عدنانی قبائل سے شرح باب ہم میں ملاحظہ ہو۔