صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 17
صحیح البخاری جلد 12 ۶۱- كتاب المناقب مَحْرَمَةَ إِذَا اسْتَأْذَنَّا فَاقْتَحِم الْحِجَابَ (حضرت عبد اللہ بن زبیر سے کہا: ) جب ہم اندر فَفَعَلَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِعَشْرِ رِقَابِ جانے کی اجازت لیں تو تم بھی پردہ سے جاگھسنا۔فَأَعْتَقَتْهُمْ ثُمَّ لَمْ تَزَلْ تُعْتِقُهُمْ حَتَّى چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیلہ پھر حضرت عبد اللہ نے حضرت عائشہ کو دس غلام بھیجے اور حضرت بَلَغَتْ أَرْبَعِيْنَ فَقَالَتْ وَدِدْتُ أَنِّي عائشہ نے ان کو آزاد کر دیا۔پھر وہ غلام آزاد کرتی جَعَلْتُ حِيْنَ حَلَفْتُ عَمَلًا أَعْمَلُهُ رہیں یہاں تک کہ چالیس تک ان کی تعداد پہنچ فَأَفْرُغَ مِنْهُ۔اطرافه: ۶۰۷۳،۳۵۰۳ تشریح: گئی اور کہنے لگیں: میری آرزو ہے کہ کاش جب میں نے قسم کھائی تھی، میں کوئی ایسا کام مقرر کرتی کہ جس کو میں کر کے اس نذر سے فارغ ہو جاتی۔مَنَاقِبُ قُرَيْش قریش نضر بن کنانہ کی نسل ہیں جیسا کہ ابو عبیدہ نے جزم سے کہا ہے اور مؤرخین ابن سعد اور ہشام بن کلبی وغیرہ نے بھی اس قبیلہ کا ذکر کیا ہے۔اکثر انہیں فہر بن مالک بن نضر کی اولاد بتاتے ہیں۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۶۵۳) عرب کے دو بڑے قبیلے تھے ربیعہ ومضر۔مکہ مکرمہ میں بیت اللہ پر خزاعہ قابض تھے۔قریش نے اس قبیلہ سے جنگ کی اور اسے وہاں سے نکالا اور خود بیت اللہ کے متولی ہوئے۔یہ واقعہ چوتھی صدی عیسوی کا ہے۔مکہ مکرمہ کی بودوباش سے اس قبیلے نے ہوش سنبھالے اور متمدن ہوئے اور مشرق و مغرب کی تجارت سنبھالی۔اس وقت جزیرہ عرب ہندوستان، ایشیا کو چک اور افریقہ کے درمیان واسطہ تجارت تھا۔تجارتی قافلے قریش کی حفاظت میں مشرقی اور مغربی ممالک کے درمیان سلامتی سے نقل و حرکت کر سکتے تھے۔اس وجہ سے قریش ان سے بڑے بڑے معاوضے اور راہداری وصول کرتے تھے۔جس سے یہ لوگ بہت دولت مند ہو گئے۔سورۃ القریش میں ان کے شنائی (سرمائی اور صیفی (گرمائی) سفروں کا ذکر کے انہیں اپنے رب کے شکر گزار بندے بننے کی تلقین کی گئی ہے۔قبیلہ قریش کی اہم شاخوں کے نام یہ ہیں: بنوامیہ، بنونوفل، بنوزہرہ، بنو مخزوم بنو اسد، بنو مجمع، بنو سہم، بنو ہاشم، بنو تیم اور بنو عدی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو ہاشم کے خاندان سے تھے۔روایت نمبر ۳۵۰۲ میں بنو ہاشم اور بنو مطلب کو ایک ہی خاندان قرار دیا گیا ہے اور روایت نمبر ۳۵۰۴ میں انصار ( ابائی مدینہ ویمن) اور قبائل بنی جہینہ، مزینہ، اسلم، اشجع اور غفار قریش کے موالی ( دوست و مددگار) قرار دیئے گئے ہیں۔مولی کی اصطلاح خاص تھی یعنی عہد و پیمان کا دوست جس کا فرض ہو جاتا تھا کہ حالت جنگ میں مدد دے۔مولیٰ کی جمع موالی ہے۔قریش نام کی وجہ تسمیہ میں کئی قول ہیں۔ایک یہ کہ ویل مچھلی کا نام قریش ہے جو سمندر کے تمام جانداروں