صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 277 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 277

صحیح البخاری جلد ۲۷۷ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهُ اے اللہ ! زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِيْنَ وَ الْأَنْصَارِ اس لئے مہاجرین اور انصار کو مغفرت سے نواز اطرافه: ۴۰۹۸، ۶۴۱۴ تشریح : دُعَاءُ النَّبِي الا الله أَصْلِحِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةُ: باب میں مُعشونہ نبوی قول حضرت عبد اللہ بن زید بن عاصم سے مروی ہے اور آپ کا یہ قول امام بخاری نے کتاب المغازی باب ۶ ۵ روایت نمبر ۴۳۳ میں پورے سیاق کے ساتھ نقل کیا ہے۔جس سے اس ارشاد کا سبب معلوم ہو جاتا ہے۔باب ۸ کی تیسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے بحرین فتح ہونے پر یہ علاقہ انصار کو بطور جاگیر اقطاعی (یعنی مقاطعہ پر ) دینا چاہا۔مگر انہوں نے یہ عطیہ پسند نہ کیا تا وقتیکہ ان کے مہاجر بھائیوں کو بھی دی جائے۔اس سے امام شافعی امام ترمذی اور امام حاکم کی روایات کی ایک حد تک تصدیق ہوتی ہے جو بلحاظ سند کمزور ہیں۔ان میں ہے کہ حضرت اسید بن حضیر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے انصار کے دو گھرانوں کے لئے اموال غنیمت میں سے طلب فرمایا تو آپ نے ہر انصاری گھر کے لئے ایک وسق کھجوریں اور آدھا وسق جو دینے کا ارشاد فرمایا تو حضرت اسیڈ نے کہا: جَزَاكَ اللهُ عَنَّا يَا رَسُولَ الله اور آپ نے فرمایا: وَأَنتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ وَإِنَّكُمْ لَأَعِفَةُ صَبْرٍ۔اور تمہیں بھی اللہ بہتر جزا دے۔اے انصار کی جماعت! تم لوگ یقیناً عفیف النفس اور بہت صبر کرنے والے ہو۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۱۴۹) امام بخاری کی روایت میں عفت نفس، بے نیازی اور صبر کے وصف تو انصار کے حق میں ثابت ہیں مگر یہ کہ ان کے کسی سردار نے انصار کے لئے مطالبہ کیا ہو، درست نہیں۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا خیال رکھا اور ان کو جاگیر دینی چاہی مگر انہوں نے استغنا کا اظہار کیا۔جس پر آپ کی نظر نبوت نے نور بصیرت سے دیکھا کہ انصار پر دوسروں کو مقدم کیا جائے گا اور آپ نے انہیں صابر رہنے کی تلقین فرمائی۔بعد کے واقعات نے اس کی تصدیق کی۔اس تعلق میں کتاب التفسير ، سورۃ الشعراء، تشریح بابا بھی دیکھئے۔جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق سابقہ انبیاء کی پیشگوئیوں کا ذکر ہے اور آپ کی ایک علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ آپ آئندہ کی خبروں پر اطلاع پائیں گے اور ان کی دعائیں قبول ہوں گی۔چنانچہ آپ کی دعا کے مستجاب ہونے کی وجہ سے انصار کی مالی حالت سنور گئی اور وہ متمول ہو گئے۔1) السنن المأثورة للشافعي ، كتاب الزكوة، باب ايام التشريق، صفحه ۳۴۰ سنن الترمذی، کتاب المناقب عن رسول الله ﷺ ، باب فی فضل الأنصار وقريش المستدرك على الصحيحين، كتاب معرفۃ الصحابة، ذكر فضائل الأنصار ، جزء ۴ صفحه ۸۹