صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 276
صحیح البخاری جلدی ۲۷۶ ۶۳- كتاب مناقب الأنصار وَعِنْدَ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ اور قتادہ نے بھی ایسی ہی روایت حضرت انس سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَقَالَ بیان کی ہے، حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ۔ سے روایت کیا۔ اس میں یوں ہے : آپؐ نے فرمایا: فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ بجائے فَأَصْلِحْ کے۔ یعنی انصار اور مہاجرین کی کمزوریوں پر پردہ پوشی فرما۔ اطرافه ۲۸۳۴، ۲۸۳۵، ۲۹۶۱، ۳۷۹۷، ۴۰۹۹ ، ۴۱۰۰، ۶۴۱۳ ، ۷۲۰۱ ٣٧٩٦: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۳۷۹٦ : آدم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ بتایا۔ محمید طویل سے روایت ہے۔ (انہوں نے کہا:) مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتِ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے الْأَنْصَارُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ تَقُوْلُ: سنا۔ انہوں نے کہا: انصار خندق کے روز یہ شعر پڑھتے تھے: نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوْا مُحَمَّدًا ہم وہ ہیں جنہوں نے محمدؐ سے یہ بیعت کی کہ جب عَلَى الْجِهَادِ مَا حَبِيْنَا أَبَدًا تک ہم زندہ رہیں گے ہمیشہ جہاد کرتے رہیں گے فَأَجَابَهُمْ: القديم یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ تم نے ان کو یہ جواب دیا: اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشَ الْآخِرَةِ اے اللہ ! زندگی تو آخرت کی ہی زندگی ہے اس فَأَكْرِمِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَة لئے انصار اور مہاجرین سے کریمانہ سلوک فرمائیو اطرافه: ۲۸۳۴، ۲۸۳۵، ۲۹۶۱، ۳۷۹۵، ۴۰۹۹، ۴۱۰۰، ۷۲۰۱۰۶۴۱۳ ۳۷۹۷ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ۳۷۹۷ : محمد بن عبید اللہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ ابن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سَهْلٍ قَالَ جَاءَنَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ سے، ان کے باپ نے حضرت سہل بن سعد ) عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَحْفِرُ الْخَنْدَقَ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہمارے پاس رسول اللہ صلی العلیم آئے اور ۔ اور ہم خندق کھود رہے وَنَنْقُلُ التَّرَابَ عَلَى أَكْتَادِنَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تھے اور مٹی اپنی پیٹھوں پر ڈھو رہے تھے۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا: الترسيم