صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 275 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 275

صحیح البخاری جلدی ۲۷۵ ۶۳- كتاب مناقب الأنصار ٣٧٩٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۳۷۹۴ : عبد اللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ سفیان نے ہمیں بتایا کہ یحی بن سعید سے روایت سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ہے۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ حِيْنَ خَرَجَ مَعَهُ إِلَى الْوَلِيدِ قَالَ سے اس وقت سناجب وہ بچی کے ساتھ ولید سے دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ملنے کے لئے نکلے تھے۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ الْأَنْصَارَ إِلَى أَنْ يُقْطِعَ لَهُمُ الْبَحْرَيْنِ عَليه وسلم۔ وسلم نے انصار کو بلایا تا انہیں بحرین کا ملک بطور جاگیر دیں۔ انصار نے کہا: ہم نہیں لیں گے فَقَالُوْا لَا إِلَّا أَنْ تُقْطِعَ لِإِخْوَانِنَا مگر اس وقت کہ آپ ہمارے ان مہاجر بھائیوں مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَهَا قَالَ إِمَّا لَا کو بھی ویسی ہی جاگیر دیں۔ آپؐ نے فرمایا: اگر فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي فَإِنَّهُ سَيُصِيبُكُمْ نہیں لیتے تو پھر مجھ سے ملنے تک تم صبر کرنا بَعْدِي أَثَرَةٌ۔ اطرافه: ۲۳۷۶، ۲۳۷۷، ۳۱۶۳ کیونکہ تم کو میرے بعد عنقریب خود غرضی کی تکلیف پہنچے گی۔ باب ۹ دُعَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصْلِحِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعا کرنا: اے اللہ ! انصار اور مہاجرین کی حالت بہتر بنادے ۳۷۹۵ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا ۳۷۹۵ آدم بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان شُعْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو إِيَاسٍ مُعَاوِيَةُ بْنُ کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ ابو ایاس معاویہ بن قُرَّةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ قرہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: علیہ وسلم نے فرمایا: لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ زندگی تو آخرت کی ہی زندگی ہے فَأَصْلِحِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ تو انصار اور مہاجرین کی حالت سنوار دے