صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 275
صحیح البخاری جلد ۲۷۵ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار ٣٧٩٤: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۳۷۹۴ عبد الله بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْن سَعِيدٍ سفیان نے ہمیں بتایا کہ یحی بن سعید سے روایت سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ہے۔انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ حِيْنَ خَرَجَ مَعَهُ إِلَى الْوَلِيدِ قَالَ سے اس وقت سنا جب وہ بچی کے ساتھ ولید سے دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ملنے کے لئے نکلے تھے۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ الْأَنْصَارَ إِلَى أَنْ يُقْطِعَ لَهُمُ الْبَحْرَيْنِ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا تا انہیں بحرین کا ملک بطور جاگیر دیں۔انصار نے کہا: ہم نہیں لیں گے فَقَالُوْا لَا إِلَّا أَنْ تُقْطِعَ لِإِخْوَانِنَا مگر اس وقت کہ آپ ہمارے ان مہاجر بھائیوں مِنَ الْمُهَاجِرِيْنَ مِثْلَهَا قَالَ إِمَّا لَا کو بھی ویسی ہی جاگیر دیں۔آپ نے فرمایا: اگر فَاصْبِرُوْا حَتَّى تَلْقَوْنِي فَإِنَّهُ سَيُصِيبُكُمْ نہیں لیتے تو پھر مجھ سے ملنے تک تم صبر کرنا کیونکہ تم کو میرے بعد عنقریب خود غرضی کی بَعْدِي أَثَرَةٌ۔اطرافه: ۲۳۷۶، ۲۳۷۷، ۳۱۶۳۔باب ۹ تکلیف پہنچے گی۔دُعَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصْلِحِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعا کرنا: اے اللہ ! انصار اور مہاجرین کی حالت بہتر بنادے ٣٧٩٥: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا :۳۷۹۵ آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان شُعْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو إِيَاسٍ مُعَاوِيَةُ بْنُ کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ ابو ایاس معاویہ بن قُرَّةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ قرہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ زندگی تو آخرت کی ہی زندگی ہے فَأَصْلِحِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ تو انصار اور مہاجرین کی حالت سنوار دے