صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 273 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 273

صحیح البخاری جلد ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار یقینا اس کی مدد کرے گا جو اس (کے دین) کی مدد کرے گا۔اللہ یقینا بہت طاقت ور ( اور ) غالب ہے۔غرض انصار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ کو خوب سمجھا اور اس بارہ میں آپ کے اعلیٰ اور مقدس نمونے کو اپنایا اور اس کا عملاً حق ادا کیا۔اس لئے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب تھے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے اپنے خلفاء و اتباع کو اپنے نمونے سے رنگین کیا جیسا کہ باب ۶ میں اس بارہ میں صراحت ہے۔عَلَيْهِمْ رِضْوَانُ اللهِ أَجْمَعِيْن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے جن گھرانوں کو شمار کرتے ہوئے فرمایا: فِي كُلِ دُورِ الْأَنْصَارِ خير - انصار کے تمام گھرانوں ہی میں بھلائی ہے۔ان میں سے بنو النجار کے خاندان کو نمبر اول پر رکھا۔یہ خزرج میں سے تھے۔وہ تیم اللہ کی اولاد تھے۔تیم اللہ کو نجار اس لئے کہتے تھے کہ اس نے ایک شخص کو پیٹا تھا اور اس کے عوض میں اسے کھانے کی دعوت دینی پڑی جس میں نجیرہ کھانا کھلایا جو دودھ ، گھی اور آٹے سے تیار کیا جاتا ہے۔اس دعوت کے نام سے یہ خاندان مشہور ہو گیا۔یہ خاندان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام قبول کرنے اور آپ کی اور مہاجرین کی خدمت و نصرت میں پیش پیش تھا۔اس کے بعد آپ نے نو عبد الاشہل کا نام لیا جو اس قبیلے میں سے تھے اور ان کا نسب نامہ او پر جا کر خزرج اصغر سے جاملتا ہے۔(عبد الاشہل بن جشم بن حارث بن خزرج الاصغر بن عمرو بن مالک بن اوس بن حارثہ ) حضرت ابو ہریرہ کی روایت میں پہلے نام بنو عبد الاشہل کا وارد ہوا ہے جو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا قبیلہ تھا اور بعد میں بنو النجار کا۔(۱) حضرت انس بن مالک کی روایت نمبر ۳۷۸۹) جو حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے زیادہ صحیح تسلیم کی گئی ہے۔بنو حارث خزرج اصغر بن عمرو بن مالک بن اوس کی اولاد تھے اور بنو ساعدہ، خزرج کے خاندان سے ہیں یعنی ساعدہ بن کعب بن خزرج الاکبر۔غرض ان چاروں خاندانوں کو ہی سبقت حاصل ہے اور مراتب میں ان میں درجے کا فرق تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب خاندان اپنی جانفشانیوں کے اعتبار سے آپ کو محبوب تھے۔بنو النجار کا تعلق ماموں زادگی کا تھا کیونکہ آپ کے جد امجد عبد المطلب کی والدہ اسی خاندان میں سے تھیں۔جب آپ بوقت ہجرت مدینہ میں آئے تو بنو نجار کے ہاں ہی ٹھہرے اور حضرت سعد بن عبادہ ان دنوں اس خاندان کے قابل اعتماد و اطاعت سردار تھے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۱۴۶، ۱۴۷) باب کی تیسری روایت میں مذکور ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے خاندان کی دلداری کی غرض سے ملے اور آپ نے ان کے خاندان کو بھی مِنْ خِيَارِ النَّاسِ شمار فرمایا۔باب ہذا کی تینوں روایتوں کا ملخص یہی ہے کہ انصار کے یہ سبھی خاندان سب سے اچھے تھے اور ان کے افضل ہونے کی ، اصل وجہ تفصیل سے بیان کی جاچکی ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے درس ابراہیمی اچھی طرح سمجھا اور جان و دل سے اس کے مطابق عمل کیا۔آج یہ سبق بالکل فراموش ہو چکا ہے۔1) مسلم، كتاب فضائل الصحابة ، باب في خير دور الأنصار مسند احمد بن حنبل، مسند ابي هريرة ، جزء ۲ صفحه ۲۶۷