صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 272
صحیح البخاری جلدے ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور تمام مومنوں کو پیارے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خطبہ الہامیہ اور اپنی دیگر تصنیفات میں حج کی یہی غرض بیان فرمائی ہے اور اپنی جماعت کو خاص کر ، نیز تمام مسلمانوں کو بالعموم توجہ دلائی ہے۔ایک مقام پر صحابہ کرام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ مہینہ قربانی کا مہینہ کہلاتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی حقیقی قربانیوں کا کامل نمونہ دکھانے کے لئے تشریف لائے تھے۔جیسے آپ لوگ بکری، اونٹ، گائے، دنبہ ذبح کرتے ہو ایسا ہی وہ زمانہ گزرا ہے جب آج سے تیرہ سو سال پیشتر خدا تعالیٰ کی راہ میں انسان ذبح ہوئے۔حقیقی طور پر عید الاضحی وہی تھی اور اسی میں ضحی کی روشنی تھی۔یہ قربانیاں اس کا لب نہیں پوست ہیں۔روح نہیں جسم ہیں۔در حقیقت اس دن میں بڑا سٹر یہ تھا کہ حضرت ابراہیمؑ نے جس قربانی کا بیچ مخفی طور پر بویا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لہلہاتے کھیت دکھائے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کے ذبح کرنے میں خدا تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں دریغ نہ کیا۔اس میں مخفی طور پر یہی اشارہ تھا کہ انسان ہمہ تن خدا کا ہو جائے اور خدا کے حکم کے سامنے اس کی اپنی جان، اپنی اولاد، اپنے اقرباء و اعزاء کا خون بھی خفیف نظر آوے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو ہر ایک پاک ہدایت کا کامل نمونہ تھے ، کیسی قربانی ہوئی۔خونوں سے جنگل بھر گئے۔گویا خون کی ندیاں بہہ نکلیں۔باپوں نے اپنے بچوں کو، بیٹوں نے اپنے باپوں کو قتل کیا اور وہ خوش ہوتے تھے کہ اسلام اور خدا کی راہ میں قیمہ قیمہ اور ٹکڑے ٹکڑے بھی کئے جاویں تو ان کی راحت ہے۔مگر آج غور کر کے دیکھو کہ بجز بنسی اور خوشی اور لہو و لعب کے روحانیت کا کونسا حصہ باقی ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ ۳۲۶، ۳۲۷) یہ یاد رہے کہ سورۃ الحج کی جس آیت (نمبر ۴۰) کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے اس کے معا بعد اگلی آیت میں فرماتا ہے کہ مظلوم مہاجرین ہی کی امداد کے لئے تلوار سونتنے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ اپنی آزادی اور امن عامہ برقرار رکھنا بھی اس سے مقصود تھا۔فرمایا: وَلَوْلَا دَفع اللهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوتُ وَ مَسْجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللهِ كَثِيرًا وَ لَيَنْصُرَنَّ اللهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِى عَزِیز ) (الحج: ۴۱) اور اگر اللہ ان (کفار) میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ سے (شرارت سے) باز نہ رکھتا تو گرجے اور یہودیوں کی عبادت گاہیں اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے برباد کر دیئے جاتے اور اللہ