صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 271 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 271

۶۳ - كتاب مناقب الأنصار صحیح البخاری جلد جو معین مقررہ آداب کے ساتھ ادا کی جاتی ہے اور جس میں احکام الہی کی بجا آوری کا اقرار رکوع و سجود کے ساتھ دن اور رات کے مقررہ اوقات میں اور ان کے علاوہ اوقات میں بھی کیا جاتا ہے۔یہ صورت عبادت (شاہانہ آداب کے مقابل میں) چاکر انہ وخادمانہ ہے جس میں پورا ادب، صفائی، طہارت اور لباس و ستر پوشی اور قیام و قعود وغیرہ ملحوظ رکھے جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورت عبادت کا اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھایا۔دوسری قسم کی عبادت نشك یا ئینگۃ کہلاتی ہے۔جس کے معنے قربانی کے ہیں جو ابراہیمی قربانی کے نمونہ پر ہے۔جس کی تفصیل کتاب الحج شرح باب ۴۶،۴۲ میں گزر چکی ہے اور جو باپ، بیٹے اور بیوی کی قربانی مشتمل ہے۔یہ عبادت عاشقانہ صورت رکھتی ہے اور معبود حقیقی کی راہ میں وطن ، مال و جان اور عزیز و اقارب اور ہر محبوب شے قربان کرنی پڑتی ہے جو اسلام کا مفہوم ہے۔ایک مسلم اپنے آپ کو کلیۃ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا اور اس کی محبت میں پورے طور پر کھویا جاتا ہے۔محولہ بالا آیات میں مذکورہ بالا دونوں قسم کی عبادتوں کو ملة ابرھیمَ حَنِيفًا کے نام سے موسوم فرمایا ہے اور اسی کا نام صراط مستقیم رکھا ہے۔چنانچہ آپ سے ارشاد ہوتا ہے : قُلْ اِنَّنِي هَدْنِي رَبِّ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ دِينًا قِيمًا ملة ابراهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ) (الانعام : (۱۶۲) کہ میرے رب نے یقینا مجھے صراط مستقیم یعنی راہ راست کی طرف ہدایت دی ہے۔ایسے طریق کی جس میں کسی قسم کی کبھی نہیں۔ابراہیم کے طریق کی جو سچائی پر قائم تھا اور مشرکوں میں سے قطعا نہیں تھا جن کی محبت کئی خداؤں میں بٹی ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے سامنے دونوں قسم کی عبادتوں کا کامل نمونہ پیش فرمایا اور اس کے نتیجہ میں ان کی زندگیوں میں وہ انقلاب واقع ہو ا جس کے ذکر میں ابواب مناقب قائم کئے گئے ہیں۔پہلے مہاجرین کے مناقب کا ذکر تھا اور اب انصار کا۔دونوں کا ذکر سورۃ الانفال ۷۳ تا ۶ے میں کیا گیا ہے اور اس ذکر میں مہاجرین اور انصار کے ذکر وَ الَّذِينَ أَوو او نَصَرُوا میں جس بات کو نمایاں کیا گیا ہے وہ جہاد فی سبیل اللہ ہے جو مال و جان وغیرہ پر محبوب شے کی قربانی کا مطالبہ کرتا ہے۔شعائر حج اور ظاہر قربانی سے اصل مقصود جانوروں کی خونریزی اور ان کے گوشت نہیں۔جیسے فرمایا: لَنْ يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمُ (الحج: ۳۸) اللہ کو ان کے گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچتے بلکہ تمہارا تقویٰ ہے جو اللہ کو پہنچتا ہے؛ اور تقویٰ کا تعلق افراد کے تزکیہ نفس اور قوم کی من حیث المجموع حفاظت و سلامتی سے ہے جس کے لئے جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔چنانچہ ان آیات کے معا بعد اللہ تعالٰی مومنوں سے مدافعت کا وعدہ کرتا ہے اور فرماتا ہے : أذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمُ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِم لَقَدِيرُ } (الحج : ۴۰) ان لوگوں کو مقابلہ کی اجازت دی گئی ہے بوجہ اس کے کہ وہ مظلوم ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی نصرت پر بڑا ہی قادر ہے۔یہ نصرت کا وعدہ مظلوم مہاجرین کے حق میں انصار مدینہ کے ذریعہ سے نمایاں طور پر پورا ہوا۔انہوں نے ان کی نصرت میں تلوار سونتی اور جب تک ان کی نصرت کا حق ادا نہ کر لیا، میان میں نہیں کی۔اس عملی قربانی میں انہوں نے اپنے پیشوا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبودیت کا اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھایا اور اسی وجہ