صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 16
صحیح البخاری جلدی ۱۶ ۶۱ - كتاب المناقب {وَمُزَيْنَهُ } وَأَسْلَمُ وَأَشْجَعُ وَغِفَارُ فرمایا: قریش اور انصار اور جہینہ { و مزینہ } اور مَوَالِيَّ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلَى دُوْنَ الله اسلم، احج اور اجع اور غفار دوست اور مدد دگار ہیں۔ سوا اللہ اور رسول کے ان کا کوئی دوست نہیں۔ وَرَسُوْلِهِ ۔ طرفه: ۳۵۱۲ ٣٥٠٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۳۵۰۵ : عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ کہ لیث نے ہمیں بتایا، کہا: ابوالاسود نے مجھے عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ كَانَ عَبْدُ بتایا کہ عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ انہوں と نے کہا: حضرت عبد اللہ بن زبیر حضرت عائشہ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ أَحَبَّ الْبَشَرِ إِلَى کونبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر بو بکر کے بعد عَائِشَةَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ باقی تمام لوگوں سے سے زیادہ محبوب تھے اور وہ تمام وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِهَا لوگوں سے بڑھ کر حضرت عائشہ سے سلوک کیا وَكَانَتْ لَا تُمْسِكُ شَيْئًا مِمَّا جَاءَهَا کرتے تھے اور حضرت عائشہ کے پاس اللہ کے مِنْ رَزْقِ اللَّهِ تَصَدَّقَتْ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ رزق سے جو کچھ آتا، اپنے پاس نہ رکھ چھوڑتیں، صدقہ کر دیتی تھیں۔ یہ دیکھ کر حضرت (عبد الله ) يَنْبَغِي أَنْ يُؤْخَذَ عَلَى يَدَيْهَا فَقَالَتْ بن زبیر نے کہا: ان کے ہاتھوں کو روکنا چاہیے۔ أَيُؤْخَذُ عَلَى يَدَيَّ عَلَيَّ نَذْرٌ إِنْ كَلَّمْتُهُ وہ کہنے لگیں: کیا میرے ہاتھوں کو روکا جائے گا؟ فَاسْتَشْفَعَ إِلَيْهَا بِرِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ مجھ پر نذر ہو گی اگر میں نے اس سے بات کی۔ پھر وَبِأَخْوَالِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت عبد اللہ بن زبیر نے ان کے پاس قریش وَسَلَّمَ خَاصَّةً فَامْتَنَعَتْ فَقَالَ لَهُ میں سے کئی آدمیوں اور خاص کر رسول اللہ صلی اللہ رة الزُّهْرِثُوْنَ أَحْوَالُ النَّبِيِّ صَلَّی اللہ علیہ وسلم کے نتھیال والوں سے سفارش کرائی۔ مگر وہ نہ مانیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ننھیال زہریوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نے جن میں حضرت عبد الرحمن بن اسود بن الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوْثَ وَالْمِسْوَرُ بْنُ عبد يغوث اور حضرت مسور بن مخرمہ بھی تھے، ۱- یہ لفظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ۱ حاشیہ صفحہ ۶۵۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔