صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 267
صحیح البخاری جلد - كتاب مناقب الأنصار ح : أَنْتُمْ أَحَبُّ النَّاسِ الي : اس باب میں دو حدیثیں ہیں جن میں عنوان باب کا مضمون ہے اور آپ کا یہ قول اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں آتا ہے کہ آپ سے دریافت کیا گیا کہ لوگوں میں سے آپ کو کون محبوب ہے ؟ تو آپ نے فرمایا: ابو بکر۔(کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم باب ۵ روایت نمبر ۳۶۶۲) حضرت ابو بکر کا مقام بلحاظ ہجرت اور ابتدائی تعلقات اخلاص اور قربانی کے اس محبت کا تقاضا کرتا تھا جس کا آپ نے اظہار فرمایا۔یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مختلف نوعیت کے تعلقات الگ الگ محبت چاہتے ہیں جو نسبتی حیثیت رکھتے ہیں۔ایک شخص ایک موقع پر کہتا ہے کہ مجھے اپنے والدین سے بڑی محبت ہے اور وہی شخص دوسرے موقع پر اپنی بیوی کے اخلاص ، وفاداری اور خدمت گزاری کی بنا پر کہتا ہے کہ مجھے اپنی بیوی سے بڑی محبت ہے۔اب اس کے ان دونوں اقوال میں تضاد نہیں دونوں ہی درست ہیں۔پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ابو بکر مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں اور دوسری حدیث میں یہ فرمانا کہ انصار مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں ، دونوں قول ہی درست ہیں۔بَاب ٦ : أَتْبَاعُ الْأَنْصَارِ انصار کی پیروی کرنے والے ۳۷۸۷: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۳۷۸۷ محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ غندر نے حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ہم سے بیان کیا۔شعبہ نے ہمیں بتایا کہ عمرو عَمْرٍو سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ عَنْ زَيْدِ بْن (بن مرہ) سے روایت ہے (انہوں نے کہا:) میں أَرْقَمَ قَالَتِ الْأَنْصَارُ يَا رَسُوْلَ الله نے ابو حمزہ سے سنا۔وہ حضرت زید بن ارقم سے روایت کرتے تھے کہ انصار نے کہا: یارسول اللہ ! لِكُلّ نَبِي أَتْبَاعٌ وَإِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاكَ ہر نبی کے پیرو ہوتے ہیں اور ہم نے چونکہ آپ فَادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَنَا مِنَّا فَدَعَا کی پیروی کی ہے۔اس لئے آپ اللہ سے دعا بِهِ فَنَمَيْتُ ذَلِكَ إِلَى ابْنِ أَبِي لَيْلَى کریں کہ وہ ہمارے پیروؤں کو بھی ہم میں سے فَقَالَ قَدْ زَعَمَ ذَلِكَ زَيْدٌ۔طرفه: ۳۷۸۸۔بنادے۔چنانچہ آپ نے اس کے متعلق دعا کی۔عمرو بن مرہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث (عبد الرحمن) بن ابی لیلی سے بیان کی۔انہوں نے کہا: حضرت زید یہی کہتے تھے۔