صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 260 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 260

صحیح البخاری جلد ۲۶۰ - كتاب مناقب الأنصار سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَاءِ قُرَيْشٍ تعجب کی بات ہوئی تلواریں ہماری قریش کے وَغَنَائِمُنَا تُرَدُّ عَلَيْهِمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ خونوں سے ٹپک رہی ہوں اور غنیمت کے مال بھی النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا ہمارے انہی کو واپس دے دیئے جائیں۔یہ خبر نبی الْأَنْصَارَ قَالَ فَقَالَ مَا الَّذِي بَلَغَنِي صلى اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے انصار کو بلایا عَنْكُمْ وَكَانُوا لَا يَكْذِبُوْنَ فَقَالُوْا هُوَ اور فرمایا: مجھے تمہارے متعلق یہ کیا خبر پہنچی ہے؟ الَّذِي بَلَغَكَ قَالَ أَوَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ اور وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے۔انہوں نے کہا: يرْجِعَ النَّاسُ بِالْغَنَائِمِ إِلَى بُيُؤْتِهِمْ وہی بات ( درست ہے ) جو آپ کو پہنچی ہے۔آپ وَتَرْجِعُوْنَ بِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے فرمایا: کیا تم اس سے خوش نہیں کہ لوگ تو وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ لَوْ سَلَكَتِ اپنے گھروں میں غنیمتوں کو لے کر لوٹیں اور تم الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ اپنے گھروں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَهُمْ۔لوٹو۔اگر انصار کسی وادی یا کہا گھائی میں چلیں تو میں بھی انہی کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔اطرافه ۳۱۴۶، ۳۱۴۷، ۳۵۲۸، ۳۷۹۳، ۴۳۳۱، ۴۳۳۲، ۴۳۳۳، ۴۳۳۴، ۴۳۳۷ : ۵۸۶۰، ۶۷۶۲ ، ۷۴۴۱ تشریح : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ : انصار نام ہے قبائل مدینہ اوس و خزرج اور ان کے حلیفوں کا۔انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر مہاجرین کی آڑے وقت میں مدد کی اور اپنے گھروں میں پناہ دی۔خود بھو کے رہے اور مہاجرین کے کھانے پینے اور ٹھہرنے کا انتظام کیا۔یہ نام خود اللہ تعالیٰ نے ان کا رکھا ہے۔(دیکھئے سورة التوبة : ۱۰۰، ۱۱۷) تاریخ اسلام میں یہ نام بہت قابل عزت ہے۔عنوان باب میں جس آیت کا حوالہ اور ترجمہ دیا گیا ہے اس میں انصار ہی کا ذکر ہے۔دیکھئے سورۃ الحشر آیت ۱۰۔اس آیت میں انصار کی تعریف کی گئی ہے۔كَانَ يَوْمُ بُعَاثَ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللهُ لِرَسُولِهِ : دوسری روایت میں جنگ بحاث کا ذکر ہے۔بعاث ایک قلعہ کا نام تھا جو مدینہ سے دو میل کے فاصلہ پر تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل اوس و خزرج کے درمیان وہاں خونریز لڑائی ہوئی تھی۔حضیر اوس کا سردار تھا۔جس کے بیٹے حضرت اُسید بن حضیر صحابی ہیں اور خزرج کا سردار عمرو بن نعمان بیاضی تھا۔ابو الفرج اصبہانی کہتے ہیں: اس جنگ کا باعث یہ ہوا تھا کہ اوس کے ایک شخص نے خزرجی حلیف کو قتل کر دیا۔انہوں نے بجائے حلیف، مقتول کے بدلے میں ایک اوی شخص انتقام لینے کے لئے قید کرنا چاہا جس پر انہوں نے اس قاعدہ کی بناء پر انکار کیا کہ حلیف کے بدلے میں