صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 261 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 261

صحیح البخاری جلدے ۲۶۱ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار حلیف سے انتقام لینا چاہیے نہ کہ کسی اوسی سے۔اس پر ایسی شدید لڑائی چھڑی کہ اس میں طرفین کے بڑے بڑے آدمی مارے گئے۔حضیر اور عمر و دونوں اس جنگ میں مقتول ہوئے اور سرداروں کے علاوہ دونوں قبیلوں کے بہت سے لوگ میدان کارزار میں کام آئے۔پہلے فتح خزرج کو ہوئی لیکن حضیر نے اوس کے اکھڑے قدم پھر جما دیئے اور انہیں شکست دی۔یہ واقعہ ہجرت سے پانچ سال قبل کا ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۱۴۱،۱۴۰) اس جنگ نے ان قبائل کے شیرازہ کو منتشر کر دیا اور وہ کمزور ہو گئے اور اس کمزوری نے انہیں دعوت اسلام قبول کرنے کی طرف متوجہ کیا اور ان کا قبول کرنا اسلام کی ترقی کے لئے بطور پیش خیمہ ثابت ہوا۔یہ مراد ہے قَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ ﷺ فِي دُخُولِهِمْ في الإسلام۔قریش مکہ کو اموال غنیمت دیئے جانے کا ذکر کتاب فرض الخمس باب ۱۹ میں گزر چکا ہے۔بَاب ۲ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأَ مِّنَ الْأَنْصَارِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: اگر ہجرت نہ کی ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ہی ایک آدمی ہوتا قَالَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ حضرت عبد اللہ بن زید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔سے اس حدیث کو نقل کیا۔۳۷۷۹ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۳۷۷۹ محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ غندر نے ہم حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ محمد بن زیاد سے، محمد بن زیاد نے حضرت ابوہریرہ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ رَضِيَ علیہ وسلم سے روایت کی یا ( کہا: ) ابو القاسم صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر انصار کسی وادی یا کہا گھائی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ الْأَنْصَارَ میں چلیں تو میں بھی انصار کی ہی وادی میں چلوں سَلَكُوْا وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ فِي گا اور اگر ہجرت نہ کی ہوتی تو میں بھی انصار میں وَادِي الْأَنْصَارِ وَلَوْ لَا الْهِجْرَةُ سے ہی ایک آدمی ہوتا۔حضرت ابوہریرہ نے لَكُنْتُ امْرَاً مِّنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ :کہا: میرے ماں باپ آپ کے قربان آپ نے أَبُو هُرَيْرَةَ مَا ظَلَمَ بِأَبِي وَأُمِّي آوَوْهُ بے جا نہیں فرمایا۔انہوں نے آپ کو پناہ دی اور