صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 259
صحیح البخاری جلد ۲۵۹ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار بِمَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ وَمَشَاهِدِهِمْ وَيُقْبِلُ کے پاس جایا کرتے تھے اور وہ انصار کی خوبیاں عَلَيَّ أَوْ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَزْدِ فَيَقُولُ اور ان کے کارنامے ہم سے بیان کرتے تھے اور میری طرف یا از د قبیلے کے کسی ایک شخص کی طرف فَعَلَ قَوْمُكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا متوجہ ہو کر کہتے : تمہاری قوم نے فلاں فلاں وَكَذَا۔طرفه: ۳۸۴۴ جنگ میں یہ یہ کیا۔:۳۷۷۷ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۳۷۷۷ عبيد بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام سے، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔كَانَ يَوْمُ بُعَاثَ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللهُ انہوں نے کہا کہ بعاث کی جنگ بھی ایسی جنگ لِرَسُوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ تھی کہ جسے اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی خاطر بطور پیش خیمہ بنایا۔چنانچہ رسول اللہ وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ وَقُتِلَتْ سَرَوَاتُهُمْ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی حالت میں (مدینہ) آئے وَجُرِحُوْا فَقَدَّمَهُ اللهُ لِرَسُوْلِهِ صَلَّى اللهُ جب انصار کی جمیعت بکھر چکی تھی اور ان کے سردار کچھ تو مارے گئے تھے اور کچھ زخمی ہو گئے تھے۔سو اللہ نے اس جنگ کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بطور پیش خیمہ کے کیا تاکہ وہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دُخُولِهِمْ فِي الْإِسْلَام۔اطرافه: ۳۸۴۶، ۳۹۳۰ اسلام میں داخل ہو جائیں۔۳۷۷۸ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا :۳۷۷۸ ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ نے ہمیں بتایا کہ ابوالتیاح سے روایت ہے۔اللهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَتِ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ الْأَنْصَارُ يَوْمَ فَتْح مَكَّةَ وَأَعْطَى سے سنا۔کہتے تھے: فتح مکہ کے دن انصار کہنے قُرَيْشًا وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْعَجَبُ إِنَّ لگے قریش کو مال دے دیا ہے یہ تو بخدا بڑے أَنَسًا رَضِيَ