صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 249 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 249

صحیح البخاری جلدی ۲۴۹ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صل عليهم ٣٧٦٦ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ۳۷۶۶ : عمرو بن عباس نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ بیان کیا کہ ابو تیاح سے روایت ہے۔ انہوں نے بْنَ أَبَانَ عَنْ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ :کہا: میں نے حمران بن ابان سے سنا۔ انہوں نے قَالَ إِنَّكُمْ لَتُصَلُّوْنَ صَلَاةً لَقَدْ صَحِبْنَا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْنَاهُ انہوں نے کہا: تم لوگ یہ نماز پڑھتے ہو۔ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہ چکے ہیں۔ ہم نے يُصَلِّيْهَا وَلَقَدْ نَهَى عَنْهُمَا يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ۔ طرفه: ۵۸۷ آپ کو یہ دو رکعتیں پڑھتے نہیں دیکھا بلکہ آپ نے ان کے پڑھنے سے منع فرمایا یعنی عصر کے بعد کی دو رکعتیں۔ تشريح : ذِكْرُ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت ابو ابو سفیان کے بیٹے تھے۔ تاریخ اسلام میں ان کی کافی شہرت ہے۔ فتح مکہ سے پہلے مسلمان ہوئے اور ان کے والدین نے ان کے بعد اسلام قبول کیا۔ حضرت ابوسفیان امیہ بن عبد شمس کے خاندان سے تھے۔ حضرت معاویہؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے بہرہ ور ہوئے اور آپ کے کا تب بھی تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اپنے بھائی یزید بن ابی سفیان کی وفات کے بعد ۱۹ ہجری میں دمشق کے امیر ہوئے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت تک اسی عہدے پر رہے اور اس کے بعد حضرت علیؓ اور حضرت حسن کے ساتھ ان کی جنگ رہی اور آخر لوگوں نے ۴۱ھ میں ان کی امارت پر اتفاق کر لیا کہ یہ جھگڑا دشمنان اسلام کو جرات دے رہا تھا۔ ) ۶۰ ھ میں فوت ہوئے۔ ان کا سارا عرصہ ولایت، امارت، جنگ و قتال اور حکمرانی کے درمیان مسلسل چالیس سال کا تھا۔ ( فتح الباری جزء کے صفحہ ۱۳۱) اس باب کے تحت تین روایتیں ہیں۔ جن سے ان کی فقیہانہ قدر و منزلت کا علم ہوتا ہے اور حضرت ابن عباس جیسے صحابہ کرام انہیں بوجہ مصاحبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ باقی رہی ان کی خاندان علوی کے ساتھ رقابت و مناقشت اور جنگ و قتال، سو اس بارہ میں حضرت امام بخاری خاموش ہیں۔ باب کی پہلی روایت معافی بن معافی بن عمران از دی موصلی سے ۔ سے ہے۔ وَكَانَ مِنَ الثَّقَاتِ النُّبَلَاءِ - اور وہ شریف و قابل اعتماد ہیں۔ سفیان ثوری کے شاگرد ہیں اور بعض تابعین سے بھی ملے ہیں۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۱۳۱)