صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 248
صحیح البخاری جلدی ۲۴۸ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صال الله۔ تشریح : مَنَاقِبُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَه : : حضرت عبد اللہ کے والد مسعود بن غافل بن نا حبیب جو الیاس بن مضر کے خاندان کے ایک فرد تھے، زمانہ جاہلیت میں فوت ہو گئے تھے اور ان کی بیوہ ام عبد (والدہ حضرت عبد الله نے اسلام قبول کیا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی چھ سابقین اولین میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے دو ہجرتیں کیں۔ حبشہ کی ہجرت اور مدینہ کی ہجرت۔ غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے اور حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان کے عہد خلافت میں کوفہ میں ناظم بیت المال کے عہدے پر مقرر تھے۔ حضرت عثمان کی خلافت کے دوران اپنی عمر کے آخری ایام میں مدینہ واپس آئے اور ۳۲ھ میں فوت ہوئے۔ ان کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ تھی اور مشہور علماء صحابہ میں سے تھے۔ اکثر صحابہ نے ان سے علم دین سیکھا۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۱۳۰) زیر باب پانچ روایتیں منقول ہیں، جن سے ان کے اوصاف حمیدہ کا پتہ چلتا ہے۔ باب ۲۸ : ذِكْرُ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر ٣٧٦٤: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ۳۷۶۴۔ حسن بن بشر نے ہم سے بیان کیا کہ معافی حَدَّثَنَا الْمُعَافَى عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ بن عمران از دی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عثمان عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ أَوْتَرَ مُعَاوِيَةُ بن اسود سے ، عثمان نے ابن ابی ملیکہ سے روایت بَعْدَ الْعِشَاءِ بِرَكْعَةٍ وَعِنْدَهُ مَوْلًى لِابْنِ کی۔ انہوں نے کہا: حضرت معاویہؓ نے عشاء کے عَبَّاسٍ فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ دَعْهُ بعد ایک رکعت وتر پڑھی اور ان کے پاس حضرت فَإِنَّهُ قَدْ صَحِبَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ ابن عباس کے غلام تھے۔ وہ حضرت ابن عباس کے پاس آئے تو حضرت ابن عباس نے کہا: انہیں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ طرفه: ۳۷۶۵۔ رہنے دو کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے ہیں۔ ٣٧٦٥: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ۳۷۶۵ : (سعید) بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي که نافع بن عمر نے ہمیں بتایا کہ ابن ابی ملیکہ نے مجھ مُلَيْكَةَ قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ هَلْ لَكَ فِي سے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس سے کہا گیا: کیا أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مُعَاوِيَةَ فَإِنَّهُ مَا أَوْثَرَ امیر المؤمنین حضرت معاویہ کے متعلق آپ کو کچھ اعتراض ہے کیونکہ وہ ایک رکعت وتر پڑھتے رہے إِلَّا بِوَاحِدَةٍ قَالَ أَصَابَ إِنَّهُ فَقِيْةٌ۔ ہیں ؟ انہوں نے کہا: وہ تو خود فقیہہ ہیں۔ طرفه: ۳۷۶۴۔