صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 246 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 246

صحیح البخاری جلد - کتاب فضائل أصحاب النبي ٣٧٦١: حَدَّثَنَا مُؤسَى عَنْ أَبِي ٣٧۶١: موسى ( بن اسماعیل) نے ہم سے بیان عَوَانَةَ عَنْ مُّغِيْرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيْمَ عَنْ کیا۔انہوں نے ابو عوانہ سے، ابو عوانہ نے مغیرہ عَلْقَمَةَ دَخَلْتُ الشَّامَ فَصَلَّيْتُ سے، مغیرہ نے ابراہیم (شخصی) سے، ابراہیم نے رَكْعَتَيْنِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ يَسرُ لِي علاقمہ سے روایت کی کہ میں شام گیا اور میں نے جَلِيْسًا صَالِحًا} فَرَأَيْتُ شَيْخًا دو رکعتیں پڑھیں۔میں نے کہا: اے اللہ ! میرے مُقْبِلًا فَلَمَّا دَنَا قُلْتُ أَرْجُوْ أَنْ لئے کوئی اچھا ہم نشین میسر کر۔پھر میں نے ایک يَكُوْنَ اسْتَجَابَ اللهُ قَالَ مِنْ أَيْنَ بزرگ کو سامنے سے آتے ہوئے دیکھا۔جب وہ أَنْتَ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ قَالَ قریب آئے تو میں نے دل میں کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ نے میری دعا قبول فرمائی ہے۔انہوں أَفَلَمْ يَكُنْ فِيْكُمْ صَاحِبُ النَّعْلَيْنِ وَالْوِسَادِ وَالْمِطْهَرَةِ أَوَلَمْ يَكُنْ فِيْكُمُ نے پوچھا: تم کہاں سے ہو ؟ میں نے کہا: اہل کوفہ سے۔انہوں نے کہا: کیا تم میں وہ شخص نہیں تھا جو الَّذِي أُجِيْرَ مِنَ الشَّيْطَانِ أَوَلَمْ يَكُنْ جوتی اور تکیہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو فِيكُمْ صَاحِبُ السَرِ الَّذِي لَا يَعْلَمُهُ کا برتن اپنے پاس رکھتا تھا؟ کیا وہ شخص تم میں نہ تھا غَيْرُهُ كَيْفَ قَرَأَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ وَاللَّيْلِ جے اللہ نے شیطان سے پناہ دی؟ کیا تم میں وہ فَقَرَأْتُ: وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ رازدار نہیں جس راز کو اس کے سوا کوئی نہیں إذَا تَجَى (الليل: ۲-۳) والد گر چاہتا؟ اتم عبد کے بیٹے (حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ) وَالْأُنْقَى قَالَ أَقْرَأَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ سورۃ وَاليْلِ کس طرح پڑھتے تھے ؟ میں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاهُ إِلَى فِيَّ فَمَا زَالَ پڑھا: وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى هَؤُلَاءِ حَتَّى كَادُوْا يَرُدُّونَنِي۔وَالذَّكَرِ وَال نھی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی منہ در منہ یہی پڑھایا تھا۔یہ لوگ میرے پیچھے پڑے رہے یہاں تک کہ قریب تھا کہ مجھے اس قراءت سے ہٹا دیتے۔اطرافه: ۳۲۸۷، ۳۷۴۲، ۴۳ ۷ ۳ ۴۹۴۳، ۴۹۴۴، ۲۲۷۸- (۱) لفظ صالحًا فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۱۲۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔