صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 245 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 245

صحیح البخاری جلد ۲۴۵ ۶۲ کتاب فضائل أصحاب النبي بذریعہ عہد و پیمان کسی قبیلے یا شخص کو اپنا دوست بنایا ہوا تھا جسے مولیٰ کہتے تھے۔غلام کو آزادی دیتے وقت اس سے بھی عہد لیا جاتا تھا کہ بوقت خطرہ آزاد کرنے والے کا مددگار ہو گا۔اس لئے ایسے غلام کو بھی مولی کہتے تھے۔حضرت سالم رضی اللہ عنہ اچھے قاریوں میں سے تھے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول روایت زیر باب میں مذکور ہے اور کتاب الأذان باب ۵۴ روایت نمبر ۶۹۲ میں گذر چکا ہے کہ یہ قبا میں اس وقت مہاجرین کو نماز پڑھایا کرتے تھے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے۔حضرت سالم رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک تھے اور یمامہ میں شہید ہوئے اور ان کے مولیٰ حضرت ابو حذیفہ نے بھی غزوہ بیمامہ میں جام شہادت پیا۔رضی اللہ عنہما۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۱۳۹) بَابِ ۲۷ : مَنَاقِبُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اوصاف ٣٧٥٩: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ :۳۷۵۹ حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ شعبہ نے ہمیں بتایا۔سلیمان سے روایت ہے۔سَمِعْتُ أَبَا وَائِل قَالَ سَمِعْتُ مَسْرُوقًا انہوں نے کہا: میں نے ابو وائل سے سنا۔وہ کہتے قَالَ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو إِنَّ تھے: میں نے مسروق سے سنا۔انہوں نے کہا: رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص) کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو درشت زبان تھے اور نہ تکلف سے درشتی کا اظہار کرنے والے تھے۔اور آپ نے فرمایا: تم میں سے وہ مجھے زیادہ پیارے ہیں جو اخلاق میں نہایت اچھے ہیں۔يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا، وَقَالَ إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًا۔اطرافه: ۳۵۵۹، ۶۰۲۹، ۶۰۳۵ شخصوں سے ٣٧٦٠: وَقَالَ اسْتَقْرِثُوا الْقُرْآنَ مِنْ ۳۷۶۰ : اور آپ نے فرمایا: چار أَرْبَعَةٍ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ وَسَالِمٍ قرآن سیکھو۔عبداللہ بن مسعودؓ اور سالم مولیٰ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَأُبَيَ بْنِ كَعْبٍ ابو حذیفہ سے اور ابی بن کعب اور معاذ بن وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ۔اطرافه ،۳۷۵۸ ۳۸۰۶، ۳۸۰۸، ۴۹۹۹ جبل سے۔