صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 244 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 244

صحیح البخاری جلدی ۲۴۴ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صل عليهم تشريح : مَنَاقِبُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ اللهُ عَنْهُ: حضرت خالد بن ولید بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم) اپنی شہرت کی وجہ سے تاریخ اسلام میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ان کا نسب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر دونوں سے ملتا ہے۔ ان کی کنیت ابو سلیمان تھی۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۱۲۸) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سیف اللہ کا لقب عطا فرمایا اور وہ واقعی اس وصف کے مصداق ثابت ہوئے۔ ہر میدان مقابلہ میں فتح و ظفر ان کے ہاتھوں کو چومتی تھی۔ بَاب ٢٦ : مَنَاقِبُ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت سالم کے اوصاف ٣٧٥٨: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۳۷۵۸ : سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن مرہ سے، إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ ذُكِرَ عمرو نے ابراہیم سے، ابراہیم نے مسروق سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عبد اللہ بن عَبْدُ اللهِ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو عمرو کے سامنے حضرت عبداللہ بن مسعود) کا فَقَالَ ذَاكَ رَجُلٌ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: وہ تو ایسے شخص ہیں کہ مَا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ میں ان سے اس وقت سے محبت رکھتا ہوں جب عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ اسْتَقْرِثُوا الْقُرْآنَ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ نا: چار شخصوں سے قرآن پڑھو: عبد اللہ بن مسعود فَبَدَأَ بِهِ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ سے۔ اور آپ نے پہلے ان کا نام لیا اور ابو حذیفہ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ کے غلام سالم سے اور اُبی بن کعب اور معاذ بن لَا أَدْرِي بَدَأَ بِأَبَيِّ أَوْ بِمُعَادٍ۔ جبل سے۔ مسروق نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ آپ رض نے حضرت ابی کا پہلے نام لیا یا حضرت معاذ کا۔ اطرافه ۳۷۶۰، ۳۸۰۶، ۳۸۰۸، ۴۹۹۹ الرحم تشريح مَنَاقِبُ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ : حضرت سالم حضرت حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس) کے متبنیٰ تھے۔ آیت کریمہ اُدْعُوهُمْ لا بَابِهِمْ کے نزول کے بعد مولی ابی , حذیفہ کے نام سے مشہور ہوئے۔ حضرت ابو حذیفہ اکابر صحابہ میں سے ہیں جو سالم کے اور سالم ان کے مولی تھے۔ مولی کی اصطلاح کا اردو زبان میں صحیح مترادف نہیں۔ آقا کے معنوں میں بھی مستعمل ہوتا ہے اور آزاد کردہ غلام کے معنوں میں میں بھی۔ لیکن در حقیقت یہ جنگی اصطلاح ہے۔ قبائلی جنگ کے خطرہ کی وجہ سے ہر قبیلے بلکہ ہر شخص نے