صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 242 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 242

صحیح البخاری جلد کتاب فضائل أصحاب النبي ام سرداروں کی اولاد میں سے تھے۔ان کی والدہ کا نام حمامہ تھا۔قبائلی جنگ میں قید ہو گئے تھے۔حضرت ابو بکر نے بذریعہ حضرت عباس انہیں پانچ اوقیہ چاندی سے خرید لیا تھا۔اسلام کی وجہ سے انہوں نے سخت ایذائیں سہیں۔(۱) (فتح الباری جزء ے صفحہ ۱۲۶) اس تعلق میں کتاب البیوع باب ۱۰۰ مع تشریح دیکھئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انہیں سردار سے ملقب کرنا بلا وجہ نہ تھا۔عنوان باب ۲۳ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کا جو حوالہ دیا گیا ہے۔اس کے لئے كتاب التهجد باب ۱۷ روایت نمبر ۱۱۴۹ دیکھئے۔بَاب ٢٤: ذِكْرُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حضرت (عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر ٣٧٥٦: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۳۷۵۶ : مسد دنے ہم سے بیان کیا کہ عبد الوارث عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے خالد (حذاء) سے ، خالد ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ضَمَّنِي النَّبِيُّ نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَدْرِهِ روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَقَالَ اللَّهُمَّ عَلَّمْهُ الْحِكْمَةَ۔نے اپنے سینے سے مجھے لگایا اور فرمایا: اے اللہ ! عن اس کو حکمت سکھا۔حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ ابو معمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الوارث نے الْوَارِثِ وَقَالَ اللَّهُمَّ عَلَّمْهُ الْكِتَابَ ہمیں بتایا۔پھر یہی روایت بیان کی۔اس میں یوں ہے کہ اے اللہ ! اس کو کتاب کا علم دے۔حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ موسیٰ بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا کہ خَالِدِ۔۔۔مِثْلَهُ، وَالْحِكْمَةُ الْإِصَابَةُ وہیب نے ہمیں بتایا کہ خالد سے اسی طرح فِي غَيْرِ النُّبُوَّةِ۔اطرافه ۷۵ ۱۴۳، ۷۲۷۰ مروی ہے۔۔۔۔اور حکمت نبوت کے علاوہ بھی (افراد کو) مل سکتی ہے۔ا الطبقات الكبرى لابن سعد، ذکر بلال بن رباح مولى أبي بكر، جزء ۳ صفحه ۲۳۲ مصنف عبد الرزاق، كتاب الجامع للامام ،معمر ، باب أصحاب النبی ﷺ جزء ۱۱ صفحه ۲۳۴