صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 241
صحیح البخاری جلد ۲۴۱ ۶۲ کتاب فضائل أصحاب النبي بَابِ ۲۳ : مَنَاقِبُ بِلَالِ بْنِ رَبَاحٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حضرت ابو بکر کے آزاد کردہ غلام حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہما کے اوصاف وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے جنت سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي میں اپنے آگے آگے تمہاری جوتیوں کے چلنے کی الْجَنَّة۔يَعْنِي بِلَالًا۔آواز سنی ہے۔٣٧٥٤: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۳۷۵۴ : ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ مُّحَمَّدِ عبد العزيز بن ابی سلمہ نے محمد بن منکدر سے بْنِ الْمُنْكَدِرِ أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ حضرت جابر اللهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ عُمَرُ بن عبد الله رضی اللہ عنہما نے ہمیں خبر دی۔رَضِيَ يَقُوْلُ أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَأَعْتَقَ سَيِّدَنَا انہوں نے کہا: حضرت عمرؓ کہا کرتے تھے: حضرت ابو بکر ہمارے سردار ہیں اور انہوں نے ہمارے سردار کو آزاد کیا یعنی حضرت بلال کو۔٣٧٥٥: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ ۳۷۵۵ : ابن نمیر (محمد بن عبد اللہ ) نے ہم سے مُحَمَّدِ بْن عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بیان کیا۔انہوں نے محمد بن عبید سے روایت کی عَنْ قَيْسٍ أَنَّ بِلَالًا قَالَ لِأَبِي بَكْرِ کہ اسماعیل نے ہمیں بتایا۔قیس سے روایت ہے إِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِنَفْسِكَ که حضرت بلال نے حضرت ابو بکر سے کہا: اگر فَأَمْسِكْنِي وَإِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي آپ نے اپنی ذات کے لئے مجھے خریدا تھا تو پھر آپ مجھے اپنے پاس رہنے دیں اور اگر محض اللہ لِلَّهِ فَدَعْنِي وَعَمَلَ اللَّهِ۔کے لئے خریدا تھا تو مجھ کو جانے دیں کہ میں اللہ کا کام کروں۔: مَنَاقِبُ بِلَالِ بْنِ رَبَاحٍ مَوْلَى أَيْ بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کی نسبت مشہور تو یہ ہے کہ وہ حبشی النسل تھے اور نوبہ کے باشندے۔یہی طبرانی نے حضرت انس سے نقل کیا ہے۔لیکن ابن سعد نے طبقات میں ذکر کیا ہے کہ وہ قبیلہ بھی جمع کے بعض