صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 240 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 240

صحیح البخاری جلد - کتاب فضائل أصحاب النبي ۶۲ سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ وَسَأَلَهُ عَنِ ( عبد الرحمن ) بن ابی نعم سے سنا۔(انہوں نے کہا:) الْمُحْرِمِ قَالَ شُعْبَةُ أَحْسِبُهُ يَقْتُلُ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر سے سنا اور کسی نے الدُّبَابَ فَقَالَ أَهْلُ الْعِرَاقِ يَسْأَلُوْنَ ان سے محرم کے متعلق پوچھا۔شعبہ کہتے تھے: میں عَن الدُّبَابِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ ابْنَةِ سمجھتا ہوں کہ یہ پوچھا تھا کہ اگر محرم کوئی بھڑ مار ڈالے؟ تو انہوں نے جواب دیا: عراق والے رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پھڑوں کے متعلق پوچھتے ہیں حالانکہ انہوں نے وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو مروا ڈالا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں نواسوں کے متعلق فرمایا تھا کہ وہ دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا۔طرفه: ۵۹۹۴ تشريح۔مَنَاقِبُ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کے مناقب ایک ہی باب میں اکٹھے بیان کئے گئے ہیں۔اس کے تحت آٹھ روایتیں ہیں۔پہلی دو میں حضرت امام حسن ﷺ کا ذکر ہے جو حضرت علی کے بڑے صاحبزادے تھے اور تیسری میں حضرت حسین کی شہادت کا ذکر ہے۔باقی روایتیں تقریباً مشترک ہیں۔ان میں سے ایک روایت (نمبر ۳۷۴۸) میں حضرت امام حسین ال شکل و صورت میں آنحضرت کلا م کے شبیہ اور دوسری روایت (نمبر ۰ ۳۷۵) میں حضرت امام حسن ب آپ کے شبیہ بتائے گئے ہیں اور یہ کہ دونوں نو اسے آپ کو محبوب تھے اور جب کمسن بچے تھے تو آنحضرت علی ہی ہم نے ان دونوں کی محبت کا ذکر فرمایا اور دعا کی: اے اللہ ! یہ مجھے محبوب ہیں، تو بھی انہیں اپنا محبوب بنا۔(ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب الحسن و الحسين ) اس تعلق میں یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ ایک کے ذکر سے دوسروں کے ذکر کی نفی نہیں ہوتی۔حضرت امام حسن کی ولادت رمضان ۳ھ میں اور حضرت امام حسین کی ولادت شعبان ۴ھ میں ہوئی۔اول الذکر (حضرت امام حسن) ۵۰ھ میں زہر سے شہید کیے گئے جبکہ وہ مدینہ منورہ میں تھے اور ثانی الذکر (حضرت امام حسین) عبید اللہ بن زیاد کے حکم سے شہید کئے گئے۔ابن زیاد، یزید بن معاویہ کی طرف سے کوفہ میں امیر تھا۔باشندگان کوفہ ہی نے حضرت امام حسین کو اپنی اطاعت کا یقین دلا کر اپنے پاس بلایا تھا۔یزید نے اطلاع پا کر ابن زیاد کو وہاں پہلے بھیج دیا۔حضرت امام حسین نے اپنے چچازاد بھائی مسلم بن عقیل کو پہلے بھیجا تا لوگوں سے بیعت اطاعت لیں اور ایک لشکر بھی روانہ کیا اس خوف سے کہ مبادا اہل کوفہ غداری سے پیش آئیں۔چنانچہ اکثر نے غداری کی۔مسلم بن عقیل بھی شہید ہوئے اور آخر حضرت امام حسین کا سر بھی قلم کر کے طشت میں ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا۔حضرت امام حس حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا المناک واقعہ عاشورہ کے روز ۶۱ھ میں ہوا۔اسی جانگد از واقعہ کا ذکر اس باب کی تیسری اور آٹھویں روایت میں اختصار سے ہے۔کتاب الفتن میں مزید ذکر آئے گا۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۱۲۱)