صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 236
صحیح البخاری جلد ۶۲ کتاب فضائل أصحاب النبي الام صِلَةَ عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ ابو اسحاق نے صلہ (بن زفر) سے، صلہ نے حضرت قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے لِأَهْلِ نَجْرَانَ لَأَبْعَثَنَّ يَعْنِي عَلَيْكُمْ کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران والوں سے يَعْنِي أَمِيْنَا حَقَّ أَمِيْنِ فَأَشْرَفَ أَصْحَابُهُ فرمایا: میں ضرور بھیجوں گا یعنی تمہارے پاس ایک امین جو سراسر امین ہوگا۔یہ سن کر آپ کے اللهُ عَنْهُ فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ رَضِيَ صحابہ گردنیں اٹھا کر دیکھنے لگے اور آپ نے اطرافه : ۴۳۸۱،۴۳۸۰، ۷۲۵۴- حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔تشريح: مَنَاقِبُ أَي عُبَيْدَةَ بنِ الجراح رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: آپ کا نام عمر بن عبدالله بن جراح ہے جو بنی فہر بن مالک کے خاندان سے تھے۔جس کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے اتصال ہوتا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے عہد خلافت میں شام کا امیر مقرر کیا تھا اور وہیں طاعون سے ۱۸ھ میں فوت ہوئے جہاں ان کا مقبرہ ہے، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ۔(عمدۃ القاری جزء ۱۶ صفحہ ۲۳۸) ترندی میں بھی اسی مفہوم کی ایک لمبی روایت ہے جس میں ان کے امین ہونے کے بارے میں مندرجہ ذیل الفاظ منقول ہیں اور اس میں خلفاء راشدین کی نسبت ہے: أَرحَمُ أُمَّتِى بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللهِ عُمَرُ وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءٌ عُثْمَانُ وَأَقْرَأَهُمْ لِكِتابِ اللهِ أَبي بن كَعْبٍ وَأَفَرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ أَلَا وَإِنَّ لِكُلِ أُمَّةٍ أَمِيْنَا وَ إِنْ أَمِيْنَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ (ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب معاذ بن جبل و زید بن ثابت و ابی بن کعب ) امام بخاری کی کڑی شرائط صحت کے مطابق یہ روایت صحیح نہیں، اس لئے اس کو قبول نہیں کیا۔موقع محل کی مناسبت سے تو افراد کی بعض خوبیاں بیان کی جاسکتی ہیں۔لیکن افضل التفضیل کے صیغے سے بعض افراد کی تخصیص تو قابل تحقیق ہے۔1) ترجمہ: { میری امت میں سے ان پر سب سے زیادہ رحم کرنے والے ابو بکر نہیں۔اور ان میں سے اللہ تعالیٰ کے حکم پر مضبوطی سے قائم رہنے والے عمرہ نہیں۔اور عثمان ان میں سے سب سے زیادہ حیادار ہیں۔اور ان میں سے کتاب اللہ کا زیادہ علم رکھنے والے ابی بن کعب نہیں۔اور ان میں سے فرائض کا زیادہ علم رکھنے والے زید بن ثابت نہیں۔اور ان میں سے حلال و حرام کا زیادہ علم رکھنے والے معاذ بن جبل نہیں۔سنو ، ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہیں۔}