صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 235
صحیح البخاری جلد ۲۳۵ -۲۲ کتاب فضائل أصحاب النبي ام مَنَاقِبُ عَمَّارٍ وَحُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: حضرت عمار بن یاسر اور حضرت تشریح حذیفہ بن یمان مشہور صحابہ میں سے ہیں۔اول الذکر کی ماں حضرت سمیہ اور ان کے باپ حضرت یا سر ابتدائی مسلمانوں میں سے ہیں اور تینوں اسلام کی خاطر سخت دکھ دیئے گئے۔حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کو ابو جہل نے اندام نہانی میں نیزہ مار کر شہید کر دیا تھا اور وہ اسلام میں پہلی شہادت پانے والی خاتون ہیں۔حضرت عمار غزوہ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں تھے اور اسی جنگ میں شہید ہوئے۔حضرت عمار بن یاسر کی کنیت ابو الیقظان عنسی تھی۔حضرت عمرؓ نے کوفہ میں اپنے عہد خلافت میں بعض امور کی انجام دہی کے لئے مقرر فرمایا تھا۔جس کی وجہ سے حضرت ابو دردا نے انہیں کوفہ کی طرف اپنی روایت میں منسوب کیا ہے۔(فتح الباری جزء صفحہ ۱۱۶) (عمدۃ القاری جزء ۶ صفحه ۲۳۶) حضرت حذیفہ قبیلہ بنی عبس میں سے تھے۔ان کے والد حضرت یمان بن جابر بن عمر و عبسی تھے جو بنی عبد الا شہل انصاری کے حلیف تھے۔حضرت عمر نے انہیں بھی کوفہ میں اسی طرح بعض امور کی انجام دہی کے لئے بھیجا اور آخر مدائن کے امیر مقرر کئے گئے۔حضرت ابو دردائے نے اپنی روایت میں ان کا ذکر بھی تعریف کے ساتھ کیا ہے جو باب کا موضوع ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۱۱۶) بَاب ۲۱ : مَنَاقِبُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے اوصاف ٣٧٤٤: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيّ ۳۷۴۴ : عمرو بن علی (فلاس) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ کیا کہ عبد الا علی (بصری سامی) نے ہمیں بتایا۔أَبِي قِلَابَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ خالد (حذاء) نے ابوقلابہ سے روایت کرتے مَالِكِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله ہوئے ہم سے بیان کیا، کہا: حضرت انس بن عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا مالک نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ وَإِنَّ أَمِيْنَنَا أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ أَبُو عُبَيْدَةَ عليه وسلم نے فرمایا: ہر ایک امت کا ایک امین ہو تا بْنُ الْجَرَّاح۔اطرافه ۴۳۸۲، ۷۲۵۵ ہے اور اے میری امت! ہمارے امین ابو عبیدہ بن جراح ہیں۔٣٧٤٥ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۳۷۴۵ : مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو اسحاق سے،