صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 234 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 234

صحیح البخاری جلد - کتاب فضائل أصحاب النبي عليم اللَّهُمَّ يَسَرْ لِي جَلِيْسًا صَالِحًا فَجَلَسَ داخل ہوئے تو انہوں نے دعا کی: اے اللہ ! إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ میرے لئے کوئی اچھا ہم نشین میسر فرما۔پھر مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ قَالَ حضرت ابو الدرداہ کے پاس جا کر بیٹھے اور حضرت أَلَيْسَ فِيْكُمْ أَوْ مِنْكُمْ صَاحِبُ السّر ابو الدردا نے کہا: تم کن لوگوں میں سے ہو ؟ الَّذِي لَا يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ يَعْنِی حُذَيْفَةَ انہوں نے کہا: اہل کوفہ سے۔حضرت ابو دردا قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ أَلَيْسَ فِيْكُمْ أَوْ نے پوچھا: کیا تم میں یا کہا: کیا تم میں سے وہ راز دار مِنْكُمُ الَّذِي أَجَارَهُ اللهُ عَلَى لِسَانِ نہیں کہ اس کے سوا اس راز کو کوئی نہیں جانتا یعنی حذیفہ علقمہ کہتے تھے: میں نے کہا: کیوں نہیں،۔نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي مِنَ ضرور ہیں۔حضرت ابو در داتا نے کہا: کیا تم میں یا الشَّيْطَانِ يَعْنِي عَمَّارًا قُلْتُ بَلَى کہا: کیا تم میں سے وہ شخص نہیں جس کو اللہ نے قَالَ أَلَيْسَ فِيْكُمْ أَوْ مِنْكُمْ صَاحِبُ پناہ دی یعنی شیطان سے جیسا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ السّوَاكِ وَالْوِسَادِ أَوِ السّرَارِ قَالَ علیہ وسلم نے اپنی زبان سے فرمایا یعنی عمار۔میں نے بَلَى قَالَ كَيْفَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ کہا: کیوں نہیں، ضرور ہیں۔حضرت ابوالدرداء وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلُّی نے کہا: کیا تم میں یا کہا: تم میں سے وہ شخص نہیں (الليل: ۲-۳) قُلْتُ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْقَی ہیں جو مسواک اور تکیہ یا کہا راز رکھا کرتے تھے ؟ قَالَ مَا زَالَ بِي هَؤُلَاءِ حَتَّى كَادُوا انہوں (علاقہ) نے کہا: کیوں نہیں، ضرور ہیں۔يَسْتَنْزِلُوْنَنِي عَنْ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنَ حضرت ابو درداء نے پوچھا: سورة وَ اليْلِ إِذَا النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔يَغْشَى وَ النَّهَارِ إِذَا تَجَلی کو عبد الله ( بن مسعود کیسے پڑھتے تھے؟ میں نے کہا: وَالذَّگر والأنفی پڑھا کرتے تھے۔انہوں نے کہا: یہ لوگ اب تک میرے پیچھے پڑے رہے کہ قریب تھا کہ وہ مجھے اس بات سے پھلا دیتے جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔اطرافه : ۳۲۸۷، ۳۷۶۱،۳۷۴۲، ۴۹۴۳، ۴۹۴۴، ۹۲۷۸-