صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 231 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 231

صحیح البخاری جلد ۲۳۱ ۶۲ کتاب فضائل أصحاب النبي عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ نے سالم سے ، سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى الله سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی سلام کی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَی زندگی میں کوئی شخص جب خواب دیکھا تو بی سی ای ام النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَمَنَّيْتُ کے سامنے بیان کرتا تو میں نے بھی خواہش کی کہ کوئی خواب دیکھوں جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنْتُ غُلَامًا أَنْ أَرَى رُؤْيَا أَقُصُّهَا عَلَى النَّبِيِّ بیان کروں اور میں اس وقت کنوارا لڑکا ہی تھا۔اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد ہی أَعْرَبَ وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى میں سویا کرتا تھا۔میں نے خواب میں دیکھا جیسے عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دو فرشتے ہیں۔انہوں نے مجھے پکڑا اور مجھے آگ فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ کی طرف لے گئے تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کی اندر أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ سے ایسی بندش ہے جیسے کنوئیں کی بندش ہوتی ہے مَطْوِيَّةٌ كَطَيّ الْبِئْرِ وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ اور اس کی بھی دو منڈیریں ہیں جیسے کنوئیں کی۔كَقَرْنَيْ الْبِشْرِ وَإِذَا فِيْهَا نَاسٌ قَدْ اور کیا دیکھتا ہوں کہ اس میں کچھ لوگ ہیں۔میں عَرَفْتُهُمْ فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوْذُ بِاللَّهِ نے ان کو پہچان لیا۔میں کہنے لگا: میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔میں آگ سے اللہ کی پناہ مِنَ النَّارِ أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ النَّارِ مانگتا ہوں۔تو ایک اور فرشتہ ان دونوں سے ملا فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ فَقَالَ لِي لَنْ اور مجھ سے کہنے لگا: بالکل ڈرو نہیں۔میں نے یہ تُرَاعَ فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ۔خواب حضرت حفصہ سے بیان کیا۔اطرافه ۴۴۰، ۱۱۲۱، ۱۱۵۶، ۳۷۴۰، ۷۰۱۵، ۷۰۲۸، ۷۰۳۰- ۳۷۳۹ : فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى ۳۷۳۹ اور حضرت حفصہ نے نبی صلی اللہ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ علیہ وسلم سے اسے بیان کیا تو آپ نے فرمایا: نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي عبد اللہ اچھا آدمی ہے، اگر وہ رات کو تہجد پڑھے۔مِنَ اللَّيْلِ قَالَ سَالِمٌ فَكَانَ عَبْدُ اللهِ سالم کہتے تھے: تو پھر حضرت عبد اللہ رات کو بہت کم سوتے تھے۔لَا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا قَلِيْلًا۔اطرافه : ۱۱۲۲، ۷ ۱۱۵، ۴۱ ۷ ۳ ، ۷۰۱۶، ۷۰۲۹، ۷۰۳۱۔