صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 227
صحیح البخاری جلدی ۲۲۷ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صل عليهم قُلْتُ لِسُفْيَانَ فَلَمْ تَحْمِلْهُ عَنْ أَحَدٍ میں پوچھنے گیا تو انہوں نے مجھے ڈانٹا۔ ( علی بن مدینی قَالَ وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِ كَانَ كَتَبَهُ کہتے تھے: میں نے سفیان سے پوچھا: کیا پھر آپ أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ نے یہ حدیث کسی سے نہیں سنی؟ انہوں نے کہا: عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ میں نے ایک کتاب میں اسے پایا جو ایوب بن موسیٰ امْرَأَةً مِنْ بَنِي مَخْزُوْمٍ سَرَقَتْ فَقَالُوْا نے لکھی تھی کہ زہری سے مروی ہے۔ انہوں نے مَنْ يُكَلِّمُ فِيْهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عروہ سے ، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری وَسَلَّمَ فَلَمْ يَجْتَرِئُ أَحَدٌ أَنْ يُكَلِّمَهُ کی تو لوگوں نے کہا: اس نے کہا: اس کے متعلق نبی صلی العلیم سے فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَ إِنَّ بَنِي سة کون سفارش کرے گا؟ تو آپ سے بات کرنے إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ کی کسی نے بھی جرات نہ کی۔ آخر حضرت اسامہ الشَّرِيفُ تَرَكُوْهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ بن زید نے آپ سے بات کی تو آپ نے فرمایا: بنی الضَّعِيفُ قَطَعُوْهُ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ اسرائيل لَقَطَعْتُ يَدَهَا ۔ اسرائیل بھی ایسے تھے کہ جب ان میں سے کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور جب غریب چوری کرتا تو اس کے ہاتھ کاٹ ڈالتے۔ اگر فاطمہ بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ بھی ضرور کاٹوں گا۔ اطرافه : ۲۶۴۸، ۳۴۷۵، ۳۷۳۲، ۴۳۰۴، ۶۷۸۷، ۶۷۸۸، ۶۸۰۰ ٣٧٣٤: حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۳۷۳۴ : حسن بن محمد (زعفرانی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا أَبُو عَبَّادٍ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا کیا کہ ابو عباد يحي بن عباد (صبحی بصری ) نے ہمیں الْمَاجِشُوْنُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بتایا کہ ماجشون ( عبدالعزیز بن عبد اللہ بن ابی سلمہ ) دِينَارٍ قَالَ نَظَرَ ابْنُ عُمَرَ يَوْمًا وَهُوَ نے ہم سے بیان کیا کہ عبد اللہ بن دینار نے ہمیں فِي الْمَسْجِدِ إِلَى رَجُلٍ يَسْحَبُ خبر دی۔ انہوں نے کہا: حضرت (عبد اللہ ) بن عمر ثِيَابَهُ فِي نَاحِيَةٍ مِّنَ الْمَسْجِدِ فَقَالَ نے ایک دن جبکہ وہ مسجد میں تھے ، ایک شخص کو انْظُرْ مَنْ هَذَا لَيْتَ هَذَا عِنْدِي دیکھا کہ وہ مسجد میں ایک طرف اپنے کپڑے