صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 226 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 226

صحیح البخاری جلد ۲۲۶ -۶۲ کتاب فضائل أصحاب النبي حضرت زید بن حارثہ کی جس امارت کا ذکر کیا گیا ہے وہ غزوہ موتہ ہے اور جس جنگ میں حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سپہ سالار مقرر کئے گئے تھے جس پر بعض کو اعتراض ہوا، اس فوج میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمرہ جیسے اعلیٰ پایہ کے صحابہ بھی تھے۔انہیں اعتراض نہیں ہوا بلکہ انشراح صدر سے ایک کمسن نوجوان کی ماتحتی قبول کی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس تقریر میں کئی مصلحتیں مد نظر تھیں۔امام ابن حجر نے ان میں سے بعض کا ذکر کیا ہے یعنی کبر سنی، عظمت رتبہ یا خاندانی بڑائی ہی سے اہلیت پیدا نہیں ہو جاتی بلکہ اس کے لئے دوسری بھی شرائط ہیں۔صغر سنی، پستی رتبہ یا کم مائیگی اور حسب و نسب میں حقیر سمجھا جانا قابلیت و اہلیت کے مانع نہیں۔(فتح الباری جزءے صفحہ 11) غلامی عربوں کے نزدیک ایسا داغ سمجھا جاتا تھا جو مثانے سے نہیں مٹ سکتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اسوہ حسنہ سے یہ داغ میکسر مٹادیا۔غلام و آقا کو یکساں ہموار سطح پر کھڑا کر دیا۔عَلَيْهِ صَلَوَاتُ اللَّهِ أَلْفَ أَلْفَ صَلَوَاتٍ باب کی دوسری روایت کتاب الفرائض باب ۳۱ روایت نمبر ۶۷۷۰ ، ۶۷۷۱ میں مفصل مذکور ہے۔بَابِ ۱۸: ذِكْرُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حضرت اسامہ بن زید کا ذکر ۳۷۳۲: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۳۷۳۲ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا لَيْتْ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ لیث نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ } رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ مخزومی عورت الْمَحْرُومِيَّةِ فَقَالُوْا مَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ کے معاملے نے قریش کو فکر میں ڈالا۔وہ کہنے إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُوْلِ اللهِ لگے : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کون صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔جرات کرے گا سوائے اسامہ بن زید کے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیارا ہے۔اطرافه : ۲۶۴۸، ۳۴۷۵، ۳۷۳۳ ۴۳۰۴ ،۶۷۸۷، ۶۷۸۸، ۶۸۰۰ - ۳۷۳۳ وَ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا ۳۷۳۳ : نیز علی بن مدینی) نے ہم سے بیان کیا سُفْيَانُ قَالَ ذَهَبْتُ أَسْأَلُ الزُّهْرِي که سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ حَدِيْثِ الْمَخْرُوْمِيَّةِ فَصَاحَ بِي کہا: مخزومی عورت کے واقعہ کے متعلق زہری سے (1) لفظ المرأة فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ے حاشیہ صفحہ ۱۱۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔