صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 225
صحیح البخاری جلد ۲۲۵ ۶۲ کتاب فضائل أصحاب النبي عمال فَقَدْ كُنتُمْ تَطْعُنُوْنَ فِي إِمَارَةِ أَبِيْهِ پر طعنہ زنی کرتے ہو تو تم اس سے پہلے اس کے مِنْ قَبْلُ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيْقًا باپ کی امارت پر بھی طعنہ زنی کیا کرتے تھے۔لِلْإِمَارَةِ وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبّ النَّاسِ اور اللہ کی قسم وہ امارت کے لائق تھا اور وہ ان إِلَيَّ وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَتِ النَّاسِ إِلَيَّ لوگوں میں سے تھا جو مجھے بہت پیارے ہیں اور یہ بھی اس کے بعد ان لوگوں میں سے ہے جو مجھے بَعْدَهُ۔بہت پیارے ہیں۔اطرافه ۴۲۵۰ ،۴۴۶۸ ۴۴۶۹ ۶۶۲۷، ۷۱۸۷ :۳۷۳۱ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ۳۷۳۱ : يحي بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيَ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ قَائِفٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں: اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِدٌ وَأُسَامَةُ بْنُ ایک قیافہ شناس میرے پاس آیا اور نبی صلی اللہ زَيْدٍ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ مُضْطَجِعَانِ علیہ وسلم موجود تھے اور اسامہ بن زید اور زید بن فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ حارثہ دونوں لیٹے ہوئے تھے۔اس نے کہا کہ یہ بَعْضٍ قَالَ فَسُرَّ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى قدم تو ایک سے ہیں۔عروہ کہتے تھے : اس بات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے اور آپ کو اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْجَبَهُ فَأَخْبَرَ بِهِ عَائِشَةَ۔اطرافه ۹۷۷۰،۳۵۵۵، ۶۷۷۱ اس کی یہ بات پسند آئی اور آپ نے حضرت عائشہ کو یہ بتایا۔تشريح۔مَنَاقِبُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةُ : حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ جو بیصلى الله علیہ وسلم کے مولیٰ ( آزاد کردہ غلام) تھے۔عنوانِ باب میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت کا حوالہ نقل کیا گیا ہے جو حضرت زید کی بہت بڑی تعریف ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا بھائی اور دوست و مددگار فرمایا۔اس باب کے تحت دو روایتیں ہیں۔پہلی روایت سے ظاہر ہے کہ حضرت زید اور ان کے بیٹے حضرت اسامہ دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب تھے اور وہ سردار لشکر بنائے جاتے تھے۔روایت نمبر ۳۷۳۰ میں