صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 223 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 223

صحیح البخاری جلد ۶۲ کتاب فضائل أصحاب النبي فَقَالَتْ يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّكَ لَا کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: آپ کی قوم یہ کہتی تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحْ ہے کہ آپ اپنی بیٹیوں کے لئے ناراض نہیں بِنْتَ أَبِي جَهْل فَقَامَ رَسُوْلُ اللهِ ہوتے اور یہ دیکھیں علی نہیں ابو جہل کی بیٹی سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ حِيْنَ نکاح کرنے لگے ہیں۔یہ سن کر رسول اللہ علی ای میل تَشَهَّدَ يَقُوْلُ أَمَّا بَعْدُ أَنْكَحْتُ أَبَا کھڑے ہوئے۔(حضرت مسوڑ کہتے تھے :) اور الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَحَدَّثَنِي وَصَدَقَنِي اس وقت جبکہ آپ نے کلمہ شہادت پڑھا، میں وَإِنَّ فَاطِمَةَ بَضْعَةٌ مِنِّي وَإِنِّي أَكْرَهُ نے آپ کو یہ فرماتے سنا: اما بعد، میں نے أَنْ يَسُوْءَهَا وَاللهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ ابو العاص بن ربیع کو ایک بیٹی نکاح میں دی تو اس رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے مجھ سے بات کی اور سچی کی اور فاطمہ میر الخت جگر ہے اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ اس کو کوئی وَبِنْتُ عَدُةِ اللهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ تکلیف ہو۔بخدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک شخص کے پاس اکٹھی نہیں رہیں گی۔یہ سنتے ہی حضرت علی نے فَتَرَكَ عَلِيٌّ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ مِسْوَرٍ الْخِطْبَةَ۔وَزَادَ مُحَمَّدُ بْنُ اس منگنی کو چھوڑ دیا۔اور محمد بن عمرو بن حلحلہ نے سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ فَأَحْسَنَ قَالَ حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَوَفَى لِي۔ابن شہاب سے، ابن شہاب نے علی بن حسین (زین العابدین) سے، علی نے حضرت مسوڑ سے روایت کرتے ہوئے اتنا بڑھایا: میں نے نبی صلی الیوم سے سنا اور آپ نے اپنے ایک داماد کا ذکر کیا جو بنی عبد شمس سے تھا۔آپ نے اس کی تعریف کی کہ جو دامادی کا تعلق اس نے آپ سے رکھا ہے وہ اچھا نبھایا ہے۔آپ نے فرمایا: اس نے مجھ سے بات کی تو سچی کی اور جو وعدہ مجھ سے کیا تو وہ پورا کیا۔اطرافه ۹۲۶، ۳۱۱۰، ۳۷۱۴، ۳۷۶۷، ۵۲۳۰، ۵۲۷۸