صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 221
صحیح البخاری جلد ۲۲۱ ۶۲ کتاب فضائل أصحاب النبي عمال يَقُوْلُ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَاصِ کہا: میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے سنا۔يَقُوْلُ مَا أَسْلَمَ أَحَدٌ إِلَّا فِي الْيَوْمِ وہ کہتے تھے کسی نے بھی اسلام قبول نہیں کیا مگر الَّذِي أَسْلَمْتُ فِيهِ وَلَقَدْ مَكَنْتُ اس دن جس دن کہ میں نے اسلام قبول کیا اور سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَإِنِّي لَثُلُثُ الْإِسْلَامِ میں سات دن تک ٹھہرا رہا اور حالت یہ تھی کہ تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ۔میں مسلمانوں کا ایک تہائی تھا۔ابن ابی زائدہ کی طرح ابو اسامہ نے بھی یہ بات روایت کی۔اطرافه ۳۸۵۸،۳۷۲۶۔انہوں نے کہا: ) ہاشم نے ہم سے بیان کیا۔۳۷۲۸ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ :۳۷۲۸ عمرو بن عون نے ہمیں بتایا کہ خالد بن حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ عَن عبد اللہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسماعیل سے، إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسِ قَالَ سَمِعْتُ اسماعیل نے قیس سے روایت کی۔انہوں نے کہا: اللَّهُ عَنْهُ يَقُوْلُ إِنِّي لَأَوَّلُ میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے رَضِيَ سَعْدًا تھے: عربوں میں سے میں پہلا ہوں جس نے اللہ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيْلِ اللهِ کی راہ میں تیر پھینکا اور ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَكُنَّا نَغْزُوْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ کے ساتھ جنگ کے لئے نکلتے اور حالت یہ تھی کہ وَسَلَّمَ وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقُ الشَّجَرِ ہمارے پاس کھانے کی کوئی چیز نہ ہوتی مگر حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا يَضَعُ درختوں کے پتے ہی۔ہمارا یہ حال تھا کہ ہم میں الْبَعِيرُ أَوِ الشَّاةُ مَا لَهُ خِلْطٌ سے ایک اس طرح مینگنیاں کرتا جیسے اونٹ لید ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِرْنِي عَلَى کرتا ہے یا بکریاں مینگنیاں کرتیں یعنی خشک، ان الْإِسْلَامِ لَقَدْ حِبْتُ إِذَا وَضَلَّ عَمَلِي میں نرمی بالکل نہ ہوتی۔پھر اب یہ حال ہے کہ وَكَانُوْا وَشَوْا بِهِ إِلَى عُمَرَ قَالُوْا لَا بنو اسد ابن خزیمہ ) مجھ کو آداب اسلام سکھاتے ہیں۔تب تو میں بالکل نامراد رہا اور میرا عمل ضائع گیا۔اور (بنو اسد کے) لوگوں نے حضرت عمر کے پاس چغلی کھائی تھی، کہا تھا کہ وہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھتا۔يُحْسِنُ يُصَلِّي۔اطرافة: ۵۴۱۲، ۶۴۵۳