صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 219
صحیح البخاری جلد ۲۱۹ -۶۲ کتاب فضائل أصحاب النبي۔عَنْ أَبِيْهِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ لَمْ يَبْقَ اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابوعثمان مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي (تبدی) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ان بَعْض تِلْكَ الْأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيْهِنَّ جنگوں میں سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لڑیں، بعض میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی باقی نہ رہا تھا مگر حضرت طلحہ اور حضرت سعد غَيْرُ طَلْحَةَ وَسَعْدٍ عَنْ حَدِيْثِهِمَا۔اطرافه: ۴۰۶۰-۴۰۶۱ بن ابی وقاص )۔انہوں نے یہ بات ان دونوں سے سن کر نقل کی۔٣٧٢٤: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۳۷۲۴ : مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ خالد (بن خَالِدٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ عبد اللہ واسطی) نے ہمیں بتایا۔(اسماعیل) بن ابی قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ رَأَيْتُ يَدَ خالد نے ہم سے بیان کیا کہ قیس بن ابی حازم سے طَلْحَةَ الَّتِي وَقَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ روایت ہے۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت طلحہ کا وہ ہاتھ دیکھا جس سے انہوں نے نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَلَّتْ۔طرفه: ۴۰۶۳ تشریح علیہ وسلم کو بچایا تھا۔وہ بالکل شل ہو چکا تھا۔ذِكْرُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ : حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ یہ ہے: طلحہ بن عبید اللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب۔مرہ بن کعب سے ان کا سلسلہ نسب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تیم بن مرہ پر۔ان کی والدہ کا نام حضرت صعبہ ہے جو حضرمی کی بیٹی اور حضرت علامہ کی بہن تھیں اور انہوں نے چند خواتین کے ساتھ مکہ ہی میں اسلام قبول کر لیا تھا اور ہجرت کی جن میں حضرت ابو بکر ، حضرت عثمان اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم کی مائیں بھی شامل تھیں اور یہ خواتین سابقات بالایمان اور بڑے پایہ کی تھیں۔(عمدۃ القاری جزء ۶ اصفحہ ۲۲۶) زیر باب دور وایتیں ہیں۔ان میں غزوہ احد کے موقع کا ذکر ہے کہ حضرت طلحہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص ثابت قدم رہے اور حضرت طلحہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ڈھال بنے رہے۔دشمن کی طرف سے جو تیر آپ پر برسائے گئے، حضرت طلحہ نے وہ اپنے جسم اور ہاتھ پر لئے ، جس سے ان کا ہاتھ شل ہو گیا۔کتنا بڑا کارنامہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ساتھ تمام لوگوں کی زندگی وابستہ تھی۔فَكَانَمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا - (المائدة: ۳۳) گویا اس نے تمام انسانوں کو زندہ کر دیا۔