صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 218
صحیح البخاری جلد ۲۱۸ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي الا الله يَوْمَ وَقْعَةِ الْيَرْمُوْكِ أَلَا تَشُدُّ فَنَشُدَّ صحابہ نے حضرت زبیر سے کہا: کیا آپ دھاوا نہیں مَعَكَ فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ فَضَرَبُوْهُ ضَرْبَتَيْنِ بولیں گے تاکہ ہم بھی آپ کے ساتھ دھاوا بولیں؟ عَلَى عَاتِقِهِ بَيْنَهُمَا ضَرْبَةٌ ضُرِبَهَا یہ سن کر حضرت زبیر نے دشمن پر حملہ کر دیا۔يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ عُرْوَةُ فَكُنْتُ أُدْخِلَ کافروں نے ان کے مونڈھے پر دو ضر میں لگائیں۔ان دونوں کے درمیان ایک اور ضرب تھی جو انہیں أَصَابِعِي فِي تِلْكَ الضَّرَبَاتِ أَلْعَبُ بدر کی لڑائی میں لگی تھی۔عروہ کہتے تھے: میں اپنی وَأَنَا صَغِيْرٌ۔اطرافه ۳۹۷۳، ۳۹۷۵۔انگلیاں ان زخموں میں ڈال کر کھیلا کرتا تھا اور میں اس وقت چھوٹا تھا۔مَنَاقِبُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوامِ الله : حضرت زبیر بن عوالم بن خویلد بن اسد بن تشریح: عبد العزی بن قصی ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کا سلسلہ نسب قصی بن کلاب سے ملتا ہے۔حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی والدہ صفیہ بنت عبد المطلب تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں۔آٹھ سال کی عمر میں حضرت زبیر نے اسلام قبول کیا۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۱۰۲) خود آنحضرت صلی الیم نے انہیں حواری سے ملقب فرمایا ہے۔(روایت نمبر ۳۷۱۹) اور وہ اسی لقب سے عام طور پر مشہور تھے جیسا کہ عبد اللہ بن ابی ملیکہ کی روایت سے بھی ظاہر ہے۔(دیکھئے کتاب تفسیر القرآن، سورۃ التوبۃ باب ۹ روایت نمبر ۴۶۶۵) اس روایت میں حضرت عبد اللہ بن زبیر کے وہ تعلقات قرابت شمار کئے گئے ہیں جو ان کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی نہ کسی جہت سے ہیں۔حضرت زبیر اعلیٰ درجہ کے متقی انسان تھے۔ان کے تقویٰ کا ایک نمونہ کتاب فرض الخمس باب ۱۳ روایت نمبر ۳۱۲۹) میں مذکور ہے۔باب ١٤: ذِكْرُ طَلْحَةَ بْن عُبَيْدِ اللَّهِ حضرت طلحہ بن عبید اللہ کا ذکر وَقَالَ عُمَرُ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى الله اور حضرت عمر نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے بحالیکہ آپ ان سے خوش تھے۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُ رَاضِ۔۳۷۲۳-۳۷۲۲: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ ۳۷۲۲-۳۷۲۳ : محمد بن ابی بکر مقدمی نے مجھ بْنُ أَبِي بَكْرِ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ سے بیان کیا کہ معتمر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے