صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 215 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 215

صحیح البخاری جلد ۲۱۵ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي ام سے متعلق یہ باور نہیں ہو سکتا کہ ناراضگی دیر پا رہی ہو۔نیز وہ بیعت خلافت سے الگ نہیں ہوئیں۔حضرت فاطمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کل چھ ماہ زندہ رہیں۔(عمدۃ القاری، کتاب المناقب، شرح باب علامات النبوة، جز ء۱۶ صفحہ ۱۵۴) اور یہ کہ جیسی وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ہی پیاری تھیں اسی طرح انہیں بھی آپ سے غایت درجہ محبت تھی۔پہلی روایت مع شرح کتاب فرض الخمس بابا (روایت نمبر ۳۰۹۳) میں گذر چکی ہے۔چوتھی روایت یہاں مختصر ہے اور زیر باب ۱۶ ( روایت نمبر ۳۷۲۹) حضرت ابو العاص بن ربیع کے ذکر میں منقول ہے۔پانچویں اور چھٹی روایت جو حضرت عائشہ سے مروی ہے وہ کتاب المغازی باب ۸۳ میں بھی آئے گی۔باب ۱۳ : مَنَاقِبُ الزُّبَيْرِ بْن الْعَوَّامِ حضرت زبیر بن عوام کے اوصاف وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هُوَ حَوَارِيُّ اور حضرت ابن عباس نے کہا: وہ نبی صلی اللہ علیہ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔وَسُمِّيَ وسلم کے حواری ہیں اور حواریوں کو ان کے سفید الْحَوَارِيُّوْنَ لِبَيَاضِ ثِيَابِهِمْ۔کپڑوں کی وجہ سے حواری کہتے تھے۔:۳۷۱۷ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَحْلَدٍ ۳۷۱۷ : خالد بن مخلد نے ہم سے بیان کیا کہ علی بن حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ مُہر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام بن عروہ سے، عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے بْنُ الْحَكَمِ قَالَ أَصَابَ عُثْمَانَ بْنَ :کہا: مروان بن حکم نے مجھے بتایا: جس سال نکسیر کی بیماری پھیلی، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رُعَافٌ شَدِيدٌ کو بھی سخت نکسیر ہوئی۔یہاں تک کہ اس نے ان سَنَةَ الرُّعَافِ حَتَّى حَبَسَهُ عَنِ الْحَجّ کو حج سے روک دیا اور انہوں نے وصیت کر دی تو وَأَوْصَى فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ اس وقت قریش میں سے ایک شخص ان کے پاس آیا قَالَ اسْتَخْلِفْ قَالَ وَقَالُوْهُ قَالَ نَعَمْ کہنے لگا: کسی کو خلیفہ مقرر کر دیں۔انہوں نے پوچھا: قَالَ وَمَنْ فَسَكَتَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ کیا لوگوں نے یہ بات کہی ہے ؟ اس نے کہا: ہاں۔رَجُلٌ آخَرُ أَحْسِبُهُ الْحَارِثَ فَقَالَ حضرت عثمان نے پوچھا: کس کو خلیفہ بنانا چاہتے ہیں؟ اسْتَخْلِفْ فَقَالَ عُثْمَانُ وَقَالُوْا فَقَالَ وہ خاموش رہا۔اتنے میں پھر ایک اور شخص ان کے نَعَمْ قَالَ وَمَنْ هُوَ فَسَكَتَ قَالَ پاس آیا۔میں سمجھتا ہوں کہ وہ حارث تھا۔کہنے لگا: