صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 214 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 214

صحیح البخاری جلد ۲۱۴ - کتاب فضائل أصحاب النبي - ٣٧١٥: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ :۳۷۱۵ يحي بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا باپ سے ، ان کے باپ نے عروہ سے، عروہ نے قَالَتْ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔کہتی وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی فاطمہ کو قُبِضَ فِيْهَا فَسَارَهَا بِشَيْءٍ فَبَكَتْ اس بیماری میں بلایا جس میں کہ آپ اٹھائے گئے اور ان سے کچھ در پردہ کہا۔وہ (سن کر) روپڑیں۔دَعَاهَا فَسَارَّهَا فَضَحِكَتْ قَالَتْ پھر آپ نے ان کو بلایا اور ان سے در پردہ کوئی بات کی۔وہ نہیں۔حضرت عائشہ کہتی تھیں : میں نے فاطمہ سے اس کے متعلق پوچھا۔فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ۔اطرافه ۳۶۲۳ ۳۶۲۵ ۴۴۳۳، ۶۲۸۵ ٣٧١٦ فَقَالَتْ سَارَّنِي النَّبِيُّ :۳۷۱۶ : انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے : صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ جو مجھ سے راز کی بات کی تھی تو آپ نے مجھے بتایا يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيْهِ تھا کہ آپ اس بیماری میں اُٹھا لئے جائیں گے جس فَبَكَيْتُ ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ میں کہ آپ فوت ہوئے۔یہ سن کر میں رو پڑی۔أَهْلِ بَيْتِهِ أَتْبَعُهُ فَضَحِكْتُ۔پھر آپ نے مجھ سے جو بات در پردہ کی تھی تو آپ نے مجھے بتایا تھا کہ میں آپ کے اہل بیت میں اطرافه ۳۶۲۶۳۶۲۴ ۴۴۳۴، ۶۲۸۶ سے پہلی ہوں جو آپ کے پیچھے جاؤں گی۔اس پر میں ہنس پڑی۔ح۔مَنَاقِبُ قَرَابَةِ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَمَنْقَبَةُ فَاطِمَةً عَلَيْهَا السَّلَامُ : اس باب میں چھ روایتیں ہیں اور سب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا قانع تھیں۔حضرت ابو بکر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقرباء کا خیال رکھنے کی صحابہ کو ہدایت کی جیسا کہ اس باب کی تیسری روایت میں ذکر ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خود بھی دلجوئی کی ہوگی۔ناراضگی اگر ہوئی ہے تو اس کا احساس وقتی تھا لیکن نفوس مطہرہ