صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 211 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 211

صحیح البخاری جلد ۲۱۱ ۶۲ کتاب فضائل أصحاب النبي کہا: یہاں ہمارے درمیان حضرت عباس آنحضرت علی ایم کے چچا ہیں۔چچا بطور باپ ہوتا ہے اور انہیں ساتھ لے کر مینہ کے لئے دعا کی تو خوب برسات ہوئی۔(عمدة القارى، كتاب الاستسقاء، باب سؤال الناس الامام) حضرت عقیل ابن ابی طالب نے حضرت عباس کی مدح میں ان کی اس قبولیت دعا کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: وَبِعَمَى سَقَى اللهُ الْبِلَادَ وَأَهْلَهَا عَشِيَّةَ يَسْتَسْقِي بِشَيْبَتِهِ عُمَرُ تَوَجْهَ بِالْعَبَّاسِ بِالْجَدَبِ دَاعِيًا فَمَا جَازَ حَتَّى جَاءَ بِالدِّيْمَةِ المَطَرُ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح كتاب الصلاة، باب الاستسقاء) یعنی اللہ نے میرے چچا کے طفیل آبادیوں اور ان کے باشندوں کو پانی پلایا جس شام کو حضرت عمر اُن کے بڑھاپے کے وسیلے سے برسات کی دعا کرتے تھے۔حضرت عباس کو ساتھ لے کر دعا کیلئے متوجہ ہوئے بحالیکہ ان کی کمر جھکی ہوئی تھی۔کچھ دیر نہیں ہوئی کہ مدینہ میں مینہ برسنے لگا۔روایت زیر باب کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی قحط باراں میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا کیا، دعا قبول ہوئی۔اس سے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا مقام ظاہر ہے۔جب قریش نے شدت مخالفت میں ابو طالب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تو انہوں نے شہر چھوڑنے کو ترجیح دی اور شعب ابی طالب میں مع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے خاندان بنی ہاشم و بنی مطلب کے چلے گئے۔جہاں تین برس تک محصور اور زیر مقاطعہ رہے۔یہ اسلامی تاریخ کا مشہور واقعہ ہے جو دعویٰ نبوت کے ساتویں سال ہوا۔ان محصورین میں حضرت عباس بن عبد المطلب بھی تھے۔جنہوں نے اپنے والد کی وفات کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفادارانہ رفاقت میں باوجود اسلام قبول نہ کرنے کے آپ کا ساتھ دیا۔(۱) بَاب ۱۲ : مَنَاقِبُ قَرَابَةِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کے اوصاف وَمَنْقَبَةُ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ بِنْتِ اور حضرت فاطمہ علیہا السلام کے اوصاف جو نبی النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی تھیں وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ جنتی فَاطِمَةُ سَدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ۔عورتوں کی سردار ہے۔1) الطبقات الكبرى لابن سعد، ذكر حصر قریش رسول الله و بنی هاشم في الشعب، جزء اول صفحہ ۲۰۸ تا ۲۱۰ الطبقات الكبرى لابن سعد، ذكر ليلة أسرى برسول الله، جزء اول صفحه ۲۱۴ الطبقات الكبرى لابن سعد، الطبقة الثانية من المهاجرين والأنصار ، العباس بن عبد المطلب جزء ۴ صفحه ۵