صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 210
صحیح البخاری جلد - کتاب فضائل أصحاب النبي بَاب ۱۱ : ذِكْرُ الْعَبَّاسِ بْن عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا ذکر ۳۷۱۰ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ :۳۷۱۰ حسن بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ محمد حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ بن عبد الله انصاری نے ہمیں بتایا۔(وہ کہتے تھے) حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُثَنَّى عَنْ میرے باپ عبد اللہ بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا۔ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ انہوں نے تمامہ بن عبد اللہ بن انس سے، تمامہ اللهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رَضِيَ حضرت عمر بن خطاب کی عادت تھی۔جب لوگوں كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالْعَبَّاسِ میں قحط پڑتا تو حضرت عباس بن عبد المطلب کے بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّا وسیلے سے بارش کی دعا کرتے، کہتے : اے اللہ ! ہم كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے تیرے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْقِيْنَا وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ حضور پہنچا کرتے تھے اور تو ہمیں پانی پلایا کرتا تھا إِلَيْكَ بِعَمٌ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا قَالَ اور اب ہم تیرے نبی کے چچا کے وسیلے سے تجھ تک پہنچتے ہیں۔اس لئے ہم پر مینہ برسا۔حضرت فَيُسْقَوْنَ۔طرفة : ۱۰۱۰۔انس کہتے تھے تو پھر ان پر مینہ برستا۔ذِكْرُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : عنوانِ باب میں بجائے لفظ تشریح۔مناقب کے لفظ ذکر عمداً اختیار کیا گیا ہے اور اس تعلق میں صرف ایک ہی روایت منقول ہے جو کتاب الاستسقاء باب ۳ میں گذر چکی ہے۔حضرت عباس رضی اللہ عنہ آنحضر عمل اللہ ہم سے عمر میں دو تین سال بڑے تھے اور حضرت عثمان ﷺ کے ایام خلافت (۳۲ھ) میں فوت ہوئے۔نوے سال کے قریب عمر پائی۔ابوالفضل کی کنیت سے مشہور تھے۔قریش مکہ کی شدید مخالفت کے ایام میں آنحضرت صلی للی ملک کی حفاظت کی۔غزوہ بدر میں یہ بھی اسیر ہوئے اور اپنا اور اپنے بھتیجے عقیل بن ابی طالب کا فدیہ دے کر آزادی حاصل کی اور انہوں نے فتح مکہ کے بعد اعلانیہ اسلام قبول کیا۔عدم ہجرت کی وجہ سے حضرت عمر انہیں مجلس شوری میں شامل نہ کرتے تھے بحالیکہ آپ کو ان کی فضیلت کا اعتراف تھا۔(فتح الباری جزء صفحہ ۹۸، ۹۹) ایک بار تحط باراں کے ایام میں کعب الاحبار نے ان سے ذکر کیا کہ بنی اسرائیل ایسے موقع پر اپنے انبیاء کی اولاد کے وسیلے سے دعا کرتے تو بارش ہو جاتی۔حضرت عمرؓ نے