صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 209 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 209

صحیح البخاری جلد ۲۰۹ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي علم قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ كُلٌّ جَانِبَيْنِ جَنَاحَانِ : امام ابن حجر نے امام بخاری کی اس شرح سے متعلق لکھا ہے کہ ان کی مراد معنوی پرواز ہے حسی پرواز نہیں۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۹۸) انجیل میں حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت لکھا ہے کہ وہ مجاز و استعارہ اور تمثیلوں میں بنی اسرائیل اور حواریوں سے خطاب کرتے تھے۔چنانچہ متی باب ۱۳ میں آتا ہے: شاگردوں نے پاس آکر اس سے کہا: تو ان سے تمثیلوں میں کیوں باتیں کرتا ہے؟ اس نے جواب میں ان سے کہا: اس لیے کہ تم کو آسمان کی بادشاہی کے بھیدوں کی سمجھ دی گئی ہے مگر ان کو نہیں دی گئی۔“ (متی باب ۱۳ : ۱۰ تا ۱۲) اور اس باب میں ہے: یہ سب باتیں یسوع نے بھیڑ سے تمثیلوں میں کہیں اور بغیر تمثیل کے وہ ان سے کچھ نہ کہتا تھا تا کہ جو نبی کی معرفت کہا گیا تھا وہ پورا ہو کہ میں تمثیلوں میں اپنا منہ کھولوں گا۔“ (متی باب ۱۳ : ۳۲، ۳۵) اس سے پہلے باب ۱۱ ، ۱۲ میں ان کی جو تعلیم مذکور ہے اس کا پیرا یہ بیان سب مجاز و استعاروں میں ہے۔اور متی باب میں انہیں ہوا کے پرندوں کی طرف توجہ دلاتے اور فرماتے ہیں: ”ہوا کے پرندوں کو دیکھو کہ نہ ہوتے ہیں، نہ کاٹتے ، نہ کو ٹھیوں میں جمع کرتے ہیں تو بھی تمہارا آسمانی باپ اُن کو کھلاتا ہے۔کیا تم اُن سے زیادہ قدر نہیں رکھتے۔“ (متی باب ۶ : ۲۶) قرآن مجید نے حضرت مسیح کے ذکر میں جابجا حضرت مسیح علیہ السلام ہی کا اسلوب بیان اختیار کرتے ہوئے روحانی پرندوں وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔(دیکھئے آل عمران: ۵۰) اور اس آیت کے آخر میں فرماتا ہے : إِنَّ فِي ذلِكَ لآيَةً تكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ یعنی ہر مومن پرندے کی شکل اختیار کرتا ہے اور کوڑھیوں، برص کے بیماروں اور روحانی مردوں کو زندہ کرتا ہے جس طرح حضرت مسیح علیہ السلام نے کیا۔غرض حضرت جعفر رضی اللہ عنہ روحانی قدرت پرواز ہی کی وجہ سے طیار سے ملقب تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ مکاشفہ یار و یا ان کا یہ بلند مقام دکھایا گیا جس کا ذکر طبرانی میں حضرت ابن عباس کی روایت میں ہے۔ان کے اوصاف حمیدہ میں سے یہ وصف عالی مقام ہے۔محولہ بالا آیات آل عمران و غیر ہا کی مفصل شرح کے لئے تفسیر صغیر زیر آیت سورۃ آل عمران آیت ۵۰ صفحه ۸۶ مصنفہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی دیکھئے۔اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ روحانی پرواز کا مذکورہ بالا مقام اسلام میں بھی مسلم ہے۔