صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 208
صحیح البخاری جلد جَانِبَيْنِ جَنَاحَانِ } طرفة : ۴۲۶۴ تشریح : ح : - کتاب فضائل أصحاب النبي ۶۲ میں رہو۔گویا پہلو کو بازو کہتے ہیں۔}۔مَنَاقِبُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : عنوان باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جس قول کا حوالہ دیا گیا ہے۔یہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔جس کا ایک حوالہ باب ۹ کے عنوان میں بھی گذر چکا ہے۔یہ روایت مفصل کتاب الصلح ( باب ۶ روایت نمبر ۲۶۹۹) وكتاب المغازی ( باب ۴۳ روایت نمبر ۱ ۴۲۵) میں منقول ہے۔اس میں حضرت جعفر بن ابی طالب کی صورت و شکل و اخلاق حمیدہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت کا ذکر ہے۔اس باب کے تحت صرف دو روایتیں منقول ہیں۔پہلی روایت میں ان کی خوبی ( أَخَیرُ النَّاسِ لِلْمَسَاكِيْن) مسکین پروری کا ذکر ہے۔يَا ابْن ذِي الْجَنَاحَيْنِ : آپ نے ان کے بیٹے حضرت عبد اللہ سے فرمایا: هَنِيئًا لَّكَ أَبْوَكَ يَطِيرُ معَ الْمَلَائِكَةِ فِي السَّمَاءِ۔یہ روایت طبرانی نے حضرت عبد اللہ بن جعفر ہی کی سند سے نقل کی ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۹۸) ترمذی میں یہ روایت ان الفاظ میں ہے : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَأَيْتُ جَعْفَرًا يَطِيرُ فِي الْجَنَّةِ مَعَ الْمَلَائِكَةِ۔(ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب جعفر بن أبي طالب) میں نے جعفر کو جنت میں فرشتوں کے ساتھ پرواز کرتے دیکھا۔اور حاکم نے حضرت ابو ہریرہ سے بایں الفاظ نقل کی ہے : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ جَعْفَرُ اللَّيْلَةَ فِي مَلَأَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ وَهُوَ مَخَفَّبُ الْجَنَاحَيْن بالدم - (المستدرك للحاكم، كتاب معرفة الصحابة، ذكر مناقب جعفر بن أبي طالب) جس سند سے انہوں نے اسے روایت کیا ہے وہ امام مسلم کی شرط کے مطابق ہے۔اور یہی روایت طبرانی نے حضرت ابن عباس سے مرفوعاً نقل کی ہے۔الفاظ کا فرق ہے۔اس میں ہے کہ جعفر آج رات ملائکہ کی ایک جماعت کے ساتھ میرے پاس سے گذرے۔ان کے دونوں بازو خون سے رنگے ہوئے ہیں۔اور اس میں ہے: دَخَلْتُ الْجَنَّةَ الْبَارِحَةَ فَنَظَرْتُ فِيهَا وَإِذَا جَعْفَرُ يَطِيرُ مَعَ الْمَلَائِكَةِ (المعجم الكبير للطبراني، باب الجيم، جعفر بن أبي طالب، جزء ثانی صفحه (۱۰۷) کل رات جنت میں جو داخل ہوا تو وہاں جعفر کو دیکھا کہ وہ ملائکہ کے ساتھ پرواز کر رہے ہیں۔علامہ سہیلی نے اس تعلق میں لکھا ہے کہ بظاہر الفاظ سے متبادر الی الذہن یہ ہوتا ہے کہ پرندوں کے سے پر ہیں جن کے ذریعے وہ اڑ رہے ہیں۔وَلَيْسَ كَذَلِک یہ مراد نہیں۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۹۸) مزید تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری کتاب المغازى شرح باب ۴۴ غزوة موتة من أرض الشام جزء صفحه ۶۴۵۔