صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 11 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 11

صحیح البخاری جلد ۶۱ - كتاب المناقب ہے جو عدیم النظیر ہے اور اپنے مرشد و مزگی کی کامرانی پر ایک بین شہادت ہے۔آپ نے جس غایت درجہ بے نفسی سے نہ صرف اپنی قوم کو بلکہ سارے جہاں کو دعوت الی اللہ کا پیغام دیا اور اس دعوت حق میں جو اعلیٰ درجہ کا اسوہ پیش کیا ہے، اس نے نفوس کی بالکل کایا پلٹ دی۔اس خارق عادت قلب ماہیت کا نمونہ مناقب کے ابواب اور ان کی متعلقہ روایات میں پیش کیا گیا ہے۔جن سے آیت قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى (الشوری: ۲۴) کے مذکورہ بالا مفہوم کی تصدیق از خود ہو جاتی ہے۔تعجب ہے کہ سورۃ ہود وغیرہ میں انبیاء حضرت نوح وغیرہ علیہم السلام کے لئے بار بار یہ ذکر ہو کہ ان میں سے ہر نبی نے اپنی قوم سے بر ملا فرمایا : يقومِ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى الَّذِي فَطَرَنِي أَفَلَا تَعْقِلُونَ ) (هود: ۵۲) اے میری قوم میں اس (کام) کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔میرا اجر اس ہستی کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔کیا پھر (بھی) تم عقل سے کام نہیں لیتے۔(ترجمہ از تفسیر صغیر) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق یہ سمجھا جائے کہ آپ نے اپنی قوم سے اپنی خدمت رسالت کا نعوذ باللہ یہ معاوضہ طلب کیا ہو کہ وہ آپ کے عزیز و اقرباء سے محبت رکھیں، یہ خیال نہ صرف سیاق کلام اور قرآن مجید کی دوسری آیات ہی کے خلاف ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان عالی تاب کے منافی اور فی ذاتہ بہت بھونڈا خیال ہے کیونکہ انبیاء اور ان کے متبعین وہ گروہ ہے جن کے اجر کی نسبت سورہ ہو دہی میں صراحت ہے کہ انہیں عَطَاء غَيْرَ مَجْدُودٍ (هود: (۱۰۹) نہ ختم ہونے والا انعام دیا جاتا ہے۔لوگ ان کی روح اخلاص اور انتہائی قربانی کا بدلہ قطعاًنہ دے سکتے ہیں اور نہ انبیاء ان سے کسی قسم کے بدلے کی امید رکھتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَمَا تَسْلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكرَ لِلْعَلَمِينَ (يوسف : ۱۰۵) اور تو اس تبلیغ و تعلیم) کے متعلق ان سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔یہ تو تمام جہانوں (اور سب لوگوں) کے لئے سراسر شرف (کا موجب) ہے۔(ترجمہ از تفسیر صغیر) باوجود اس مطلق نفی کے شیعہ صاحبان معنونہ آیت سے یہ مفہوم سمجھتے ہیں کہ آپ نے نعوذ باللہ اپنی قوم سے خواہش کی کہ آپ کے رشتہ داروں سے محبت کی جائے۔رشتہ داروں کی محبت کا کیا سوال ! آپ تو سارے جہان کو باہم شیر و شکر دیکھنا چاہتے تھے۔اخوت اسلامی کی بنیاد ہی اس محبت الہی و محبت بنی نوع انسان پر ہے جس میں اپنے اور غیر ، سیاہ و سفید اور مشرقی و مغربی کا سوال ہی اُٹھ جاتا ہے۔سب رشتہ وحدت میں یکساں پروئے جاتے ہیں۔آخری دو روایتوں کا تعلق اسی قسم کے امتیازوں کی قباحت سے ہے۔امام بخاری کے الفاظ یمن و شام، مشأمة، شومی اور اشام کی لغوی شرح بلا وجہ نہیں۔ابو عبیدہ کے نزدیک اس شرح سے سورۃ الواقعہ کی آیات کی طرف اشارہ ہے جس میں تین گروہوں کا ذکر ہے۔ایک اعلیٰ طبقہ جو مقربانِ باری تعالی ہے وہ بلا تمیز و تفریق نعمت الہی سے مساوی طور پر بہرہ اندوز ہوں گے۔جیسے فرمایا : مُتَكَيْنَ عَلَيْهَا مُتقبِلِينَ (الواقعه ۱۷) یعنی تکیہ لگا کر آمنے سامنے بیٹھے ہونگے۔اس مبارک معاشرے میں سلامتی ہی سلامتی کی آواز سنائی دے گی۔جیسے فرمایا: إِلا قِيلًا سَلمًا