صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 10 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 10

صحیح البخاری جلدے ۶۱- كتاب المناقب ہاں اگر قوم کی طرف سے تم پر اس کا بار ڈالا جائے تو اس کی ذمہ داری قبول کرو۔اس قیمتی ارشاد سے وہ کشمکش ختم کرنا مقصود ہے جو زمانہ جاہلیت کے مفاخر اور جنگوں میں کار فرما تھی اور آج کل انتخابی رسہ کشی میں نظر آتی ہے۔جس سے قومی قوت کا ضیاع اور فساد اخلاق ہو رہا ہے۔یہ قابل شرم ہے۔پھر جیسے امید وار انتخاب میں کامیاب ہوتے ہیں اور قوم و ملک کے لئے نفع مند ثابت ہوتے ہیں وہ سب کو معلوم ہے۔پنجابی ضرب المثل ان پر صادق آتی ہے۔”میاں مٹھو چوری کھانی اے؟ کھانی اے۔“ اسلام کا بنیادی اصل نظر انداز کیا جاتا ہے اور عیسائی اقوام کی تقلید کی جاتی ہے۔ہماری جماعت احمدیہ نے اپنے انتخابات میں اسلامی دستور کو پھر اپنایا ہے اور اگر ثابت ہو جائے کہ کسی فرد جماعت نے اپنے انتخاب میں غیر اسلامی طریق اختیار کیا ہے تو ایسا شخص پانچ سال کے لئے انتخاب عہدہ داری سے محروم کر دیا جاتا ہے۔اگر حکومت چاہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ بالا ہدایت کے پیش نظر قانون انتخاب میں ضروری ترمیم و اصلاح کر سکتی ہے جس سے قومی امانت ضائع ہونے سے محفوظ ہو جائے۔روایت نمبر ۳۴۹۷ کا تعلق آیت اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى کے شان نزول سے ہے۔شیعہ اس آیت کے یہ معنی کرتے ہیں کہ میں اور کوئی اجر نہیں مانگتا، صرف یہی کہ میرے رشتہ داروں سے محبت رکھو۔یہ مفہوم رڈ کیا گیا ہے۔رسول کی رشتہ داری کا تعلق سارے عرب سے تھا۔قرآنِ مجید کی دوسری آیت سے شیعہ اصحاب کا یہ استدلال غلط ٹھہرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَ ابْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ عَشِيْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسكِن تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيْلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِهِ وَ اللهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَسِقِينَ ( التوبة : ۲۴) تو (مومنوں سے) کہہ دے کہ اگر تمہارے باپ دادے اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے (دوسرے) رشتہ دار اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارتیں جن کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور وہ مکان جن کو تم پسند کرتے ہو، تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کے راستہ میں جہاد کرنے کی نسبت زیادہ پیارے ہیں تو تم انتظار کرو۔یہاں تک کہ اللہ اپنے فیصلہ کو ظاہر کر دے اور اللہ اطاعت سے نکلنے والی قوم کو کبھی ( کامیابی کا) راستہ نہیں دکھاتا۔(ترجمہ از تفسیر صغیر) اس آیت سے ظاہر ہے کہ اللہ و رسول اور جہاد فی سبیل اللہ کی محبت دنیا کی تمام محبتوں سے بڑھ کر ہونی چاہیے۔اگر مذکورہ بالا آیت کا وہ مفہوم لیا جائے تو آپ کا یہ سوال بھی کہ میرے رشتہ داروں سے محبت کرو، اجر کی خواہش ہو گی جس سے آپ بالکل منزہ ہیں۔اس لئے آیت کے وہ معنی درست ہوں گے جو سورۃ التوبہ والی آیت کے مطابق اور آپ کی شان بالا کے مناسب حال ہوں۔آیت کے صحیح معنی یہ ہیں کہ میں تم سے ایک دوسرے کے لئے ویسی ہی محبت چاہتا ہوں جیسی قریب ترین رشتہ دار اپنے قریب ترین رشتہ دار سے کرتا ہے۔ایسی محبت جو سراسر خالص ہو اور طبعی جذبے سے صادر ہو۔چنانچہ صحابہ کرام کے تزکیہ نفس کی شان اور باہمی محبت و اخوت کا رابطہ ایک ایسا نمونہ